مدرسہ عارف العلوم
فتوے
دوسرے کے گھر میں بلا کسی معاہدہ رقم خرچ کرنے کا حکم
سوال
عرض خدمت ہے کہ میرے والد صاحب نے 80 گز کا مکان 1968 میں (ملیر میں ) اس معاہدے کے تحت فروخت مبلغ سات ہزار روپے میں فروخت کر دیا تھا کہ مالی حالت بہتر ہونے پر ہم اس مکان کو خرید لیں گے اور اس دوران ماہانہ کرایہ ادا کرکے اسی مکان میں مقیم رہیں گے 1975 والد صاحب کا بس سے حادثہ ہونے کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔
1979 میں مذکورہ معاہدہ کے بزرگ خاندان کے گواہان کی معاونت سے مبلع پندرہ ہزار (15000/) روپے میں خرید لیا ۔ (کرایہ ہر ماہ پندرہ ہزار روپے کی ادائیگی تک دیتے رہے) خریداری کی رقم کا مندرجہ ذیل ذریعہ تھا ۔
میرا ایک چھوٹا سا کاروبار تھا ۔ 2 چھوٹے بھائی کاروبار میں معاونت کرتے تھے اور اس کی طے شدہ اُجرت وصول کرتے تھے۔ میں اس کام کے سلسلہ میں انتظامی ذمہ داری اور مارکیٹ سے آڈر لینا اور فراہم کرنا اور رقم کی وصولی کا کام کرتا تھا۔ بھائیوں کی اُجرت کی ادائیگی اوردیگر مصارف ان کا لباس اور دیگر ضروریات زندگی اپنی آمدنی سے پورا کرتا تھا۔2 بھائیوں کی اُجرت اور کاروبار سے متعلق دیگر مصارف کے بعد بچنے والی رقم اپنے پاس رکھتا تھا ۔ اور مذکورہ اہل خانہ اور گھر کے مصارف کے بعد کچھ رقم بچاتےہوئے مکان کی خریداری کے لئے رقم جمع کرلی تھی(ہم 4 بھائی اور دو ہمشیرہ صاحبہ ہیں) ایک بہن اور ایک بھائی کی شادی کے اخراجات بھی میری بچائی گئی رقم سے مکمل ہوئے تھے۔مجھ سے چھوٹے دو بھائی اپنی اُجرت کی رقم والدہ کو گھر کے مصارف کے لئے دیتے تھے۔ مکان کو بہتر کرنے کے سلسلہ میں تعمیر کے اخراجات پہلے میں پھر چھوٹی بہن نے (ملازمت کی اُجرت) سے اور پھر چھوٹے بھائی نے رقم خرچ کی تھی ایک بہن اور دو بھائیوں نے مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کچھ خرچ نہیں کیا ۔ میں نےاپنا حصہ مکان کا کرایہ پر دے رکھا ہے اور 2021اکتوبر میں مکان تعمیر کر کے اس میں مقیم ہوں دونون بہنوں کی شادی ہوچکی ہے اور 3 بھائی مذکورہ مکان میں رہائش پذیر ہیں ۔ وقفہ وقفہ سے تعمیر کی رقم خرچ کرنے کے لئے کسی قسم کا باہمی معاہدہ نہیں ہوا ہے 2013سے 2021 تک اپنی فیملی کے ہمراہ کرایہ کے مکان میں رہتا تھا۔
آپ سے آگاہی حاصل کرنا چاہتا ہوں کہ مذکورہ تحریر کی روشنی میں مکان والد صاحب کی وراثت ہوگا یا میری ملکیت کہلائے گا۔ سب بہن بھائیوں نے تحریری معاہدہ کیا ہے کہ تینوں بھائیوں کے پاس جب تک اتنے مالی وسائل نہیں ہوگے جتنی رقم مکان کی فروخت سے ملنے والی رقم(وراثت حصہ اگر والد صاحب کا ترکہ ہے) میں تینوں کے ذاتی مکان خریدنے پر درکار ہوگی۔ اگر مکان میری ملکیت ہے تو پھر بھی تاحیات اس میں مقیم رہیں گے ۔ اُمید ہے کہ احکام شرعی کی روشنی میں آگاہی عنایت فرما کر مشکور فرمائیں گے تاکہ کسی کی بھی حق تلفی نہ ہوسکے۔
تنقیح:کاروبار سائل کا ذاتی تھا والد صاحب کا کاروبار نہیں تھا،سائل نے مذکورہ کاروباراپنے والد کی زندگی میں شروع کیا تھا،بھائیوں کی اس کاروبار میں کوئی شراکت داری نہیں تھی وہ کام کرتے تھے اور ان کو اس کی متعینہ اجرت دی جاتی تھی۔
جواب
تفصیلات دیکھیںمچھلیوں کو مردہ مرغی کا گوشت کھلانے کا حکم
سوال
مفتی صاحب راہنمائی درکار ہے:
1. مرغی کی آلائشیں، انتڑیاں، پر وغیرہ مچھلی کو کھلانا جائز ہے؟
2. مردہ مرغیاں جو بیماری وغیرہ سے مر جاتی ہیں۔ ان کا مچھلیوں کو کھلانا جائز ہے کہ نہیں؟
3. جن مچھلیوں کو مردہ مرغی اور مرغی کی انتڑیاں کھلائی گئی ہوں اس کا کھانا جائز ہے کہ نہیں؟
جواب
تفصیلات دیکھیںعید گاہ کی وقف زمین پر اسکول یا کالج بنانے کا حکم
سوال
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام مندرجہ ذیل کے مسئلے کے بارے میں کہ ایک عیدگاہ ہے جو چار ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے حکومت والے کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنی جانب سے ایک لڑکیوں کا کالج بنائیں گے جو مینارٹی سے متعلق ہوگا جس میں مسلمان عیسائی سکھ بدھ جتنے مائنارٹی ہیں وہ سب پڑھیں اور خاص بات توجہ کی یہ کہ 60 فیصد مسلم بچیاں پڑھینگی اس میں قوم کا بھی فائدہ ہوگا پورے شہر میں کوئی ایک لڑکیوں کا کالج نہیں ہے جس کی بنیاد پر کافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے ایسی صورت میں ہمارے پاس جو عید گاہ کی جگہ ہے عید گاہ کے داخلی حصے میں ایک ایکڑ جگہ ہم کالج کے لیے دے سکتے ہیں؟ یہاں وہ عید گاہ کی جگہ بھی گورمنٹ ہی کی جانب سے دیگی ہے اور قبرستان کے لے بھی دیگی تھی لیکن اب وہاں صرف وہاں عید گاہ کے لے استعمال کیا جارہا ہے اور ایک سے دو ایکڑ جگہ عید گاہ کی نماز کے لے بھی استعمال میں نہی آتی ہے کیونکہ لوگ دو ڈھائ ایکڑ میں ہی نماز ادا کرلیتے ہیں اشٹیٹ وقف بورڈ کی جانب سے یہ گزارش دی گی ہے کہ اس جگہ کو اشٹیٹ وقف بورڈ کے حوالے کریں جتنی جگہ میں کالج تعمیر کرنا ہے اور وقف کی جگہ وقف کے انڈر ہی رہگی حکومت کی جانب سے تعمیر کرنے کے لے جو رقم دی جارہی ہے چونکہ حکومت وقف مائنارٹی کی جانب سے فنڈ لینا ہے اس لۓ لفظ مائنارٹی کا نام داخل کیا گیا ہے ۔وقف کے کے انڈر ۔عیدگاہ۔کی جگہ قبرستان کی جگہ عاشور خانہ کی جگہ درگاہ ۔کی جگہ اور کچھ مخلص احباب نے قوم وملت کی بھلائ کے لے جو جگاہیں وقف کۓ ہیں۔کیا ان جگہوں پر کالج بنوا سکتے ہیں۔۔ ۔اور یہ صرف ہمارے شہر ہی کے لے نہی بلکہ کرناٹک کہ ہر ضلع میں کالج قائم کر نے لے حکومت وقف کی جانب سے تجویز پیش کی گی ہے ۔جب کہ کئ اضلاع میں اس تجویزکو منضوری دیا جاچکا ہے ۔نوٹ۔لہذا اب اس وقت میں جو حالات وقف کے مسائل چل رہے ہیں ۔اسکو سامنے رکھکر ۔اور شہر کے غریب بچیوں کے فایدہ کے لے کیا کالج وقف کی جگہ پر بنایا جا سکتا ہے ۔ اس پر دلائل کی روشنی میں تصلی بخش جواب دیں ۔۔
جواب
تفصیلات دیکھیںشرط پائے جانے پر وقوع طلاق کی دھمکی دینا
سوال
سؤال: مفتی صاحب مجھے ایک مسلے کے بارے آپ کی مدد چاہیے
مفتی صاحب میرا اور میری بڑی بہن کا آپس میں کچھ بیوی کے لیکر مسئلہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے میری بہن ناراض ہو گئی تھی اس کو منانے کی بھی کوشش کی پر وہ مانی نہیں جس کی وجہ سے وہ میرا گھر آنا چھوڑ دیا تھا، میرے بہت بولنے پر وہ میرے گھر نہیں آتی تھی۔ پھر ایک دن میں نے دوبار فون کیا بہت کوشش کی پر بات نہیں بنی اور فون اپنی بڑی بیٹی کو دے دیا
جب بڑی بیٹی نے مجھ سے بات کی تو کہا ماموں امی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے تو مجھے اس بات پر بہت غصہ آیا اور میں نے اپنی بھانجی کو بولا تم اپنی ماں کو بھی بول دو آج کے بعد تمھارا میری بیوی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا اگر تم میرے گھر آؤ گی تو میری بیوی تمھاری کوئی خدمت نہیں کرے گی اور نہ تمھارے گھر کو جائے گئی اگر اس نےکچھ بھی کیا تو میں اس کو طلاق دوں گا
بس اتنی بات بول کر میں نے کال کاٹ دی۔
اس علاوہ میں نے کوئی بات نہیں بولی
اب مجھے پورا یاد ہے میں نے یہ الفاظ بولیں ہیں
میں نے اپنی بھانجی سے پوچھا تو وہ بول رہی ہے کہ ماموں مجھے ابھی صحیح سے یاد نہیں ہے
اس بات کو بھی 2 سال گزر گئے ہیں اور میرے پاس کوئی بھی نہیں تھا صرف اللہ پاک کے علاوہ ۔اب اس کے بارے شرعی حکم عنایت فرمادیں۔
جواب
تفصیلات دیکھیںعورت کے لئے اپنے شوہر کی پہلی بیوی کا داماد نامحرم ہے
سوال
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ کیا عورت اپنے شوہر کی پہلی بیوی کےداماد سے پردہ کرے گی یا نہیں؟
جواب
تفصیلات دیکھیںآپ ﷺ پر سحر اور جادو کی کیفیت
سوال
معززمفتیان کرام گزارش ہےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرجوجادوہواوہ کس نے کیا؟ جادوکی کیاکیفیت تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پراس کاکتنااثرتھا؟ کیاجادوکی وجہ سےہوش وحواس میں کوئی فرق پڑاتھایانہیں؟ نیز اس کی تفصیلات بتادیں جلدی ضرورت ہے۔
جواب
تفصیلات دیکھیںانبیاء کرام علیہم السلام کو نبوت کس سن میں ملی
سوال
حضرت یہ معلوم کرنا کہ جس طرح ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی اسی طرح اور پہلے نبیوں کو کتنی کتنی عمر میں نبوت ملی تھی سب کا ضروری نہیں ہے کچھ کے بارے جواب دے دیں
جواب
تفصیلات دیکھیںنبوت ملنے سے پہلے کے اعمال سنت ہیں یا نہیں؟
سوال
آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرنا مطلوب ہے لیکن یہ بتایا جائے کہ سنت کی تعریف کیا ہے ؟اور سنت سے مراد کون سا افعال ہیں ؟نبوت ملنے سے پہلے کے اعمال بھی سنت میں داخل ہیں یا صرف وہ اعمال جو نبوت ملنے کے بعد آپ ﷺ سے صادر ہوئے وہ سنت ہیں ؟ایک شخص یہ کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے 25 سال کی عمر میں 40 سال کی بیوہ یعنی حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے شادی کی پھر پہلی بیوی جب تک زندہ رہیں دوسری سے شادی نہیں کی ،پہلی بیوی کی وفات کے بعد آپ ﷺ نے تقریبا 50 سال کی عمر میں دوسری ،تیسری شادیاں کیں اب اس شخص کا کہنا یہ ہے کہ سنت یہ ہے کہ 25 سال کی عمر میں بڑی عمر کی عورت سے شادی کی جائے پھر اس کی موجودگی میں دوسری شادی نہ کی جائے اس شخص کی بات کہاں تک درست ہے ؟کون سی سنت پر عمل کرنا ضروری ہے ؟
جواب
تفصیلات دیکھیںتجہیز وتکفین کے لئے کمیٹی بناکر جبراً چندہ لینے کا حکم
سوال
عرض یہ ہے کہ ہمارے خاندان میں ایک دستور اور تنظیمی رواج قائم ہے کہ خاندان کے ہر گھر افراد خواہ بالغ ہوں یا نابالغ ان سب پر ماہانہ ایک مقررہ رقم ( مثلا سوروپے یا سو روٹیاں) لازمی طور پر مقرر کیا جاتا ہے ،پھر یہ رقم ماہانہ بنیاد پر ایک ذمہ دار شخص کے پاس جمع کی جاتی ہے ،جب خاندان میں کوئی شخص وفات پا جائے تو اس ماہانہ جمع شدہ تنظیمی رقم سے اس میت کے کفن ،دفن اور دیگر ضروری اخراجات پورے کئے جاتے ہیں اس مقصد کے لئے یہ فنڈ رکھا جاتا ہے ۔اب آپ سے مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں:
1۔کیا خاندان یا قوم کا اس طرح کسی بھی فرد –بالغ یا نابالغ –پر ماہانہ رقم لازمی کرنا شرعا درست ہے؟
2۔اور کیا میت کے اخراجات کے لئے اس طرح کا تنظیمی فنڈ بنانا جائز ہے؟
3۔اگر جائز نہیں ہے تو اس کے جواز کی کوئی صورت ہوسکتی ہے؟
جواب
تفصیلات دیکھیںمناسخہ 2 بطن
سوال
میرے والد کا نام محمد یوسف ،اور ان کی وفات دسمبر 1975 میں ہوئی ۔وفات کے وقت ایک بیوہ (بشیراں بیگم) پانچ بیٹے(آصف محمود،طارق محمود،ظاہر محمود،اطہر محمود،اصغر محمود) اور تین بیٹیاں(روبینہ یوسف،زرینہ یوسف،شبانہ یوسف) ،والد محترم کی وفات کے بعد بڑے بھائی آصف محمود کا انتقال2017 میں ہوا ،آصف کے ورثاء میں والدہ،بیوہ،چار بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ ۔اسکے بعد 2025 میں ہماری والدہ کا انتقال ہوا ؟
جواب
تفصیلات دیکھیں