info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

عید گاہ کی وقف زمین پر اسکول یا کالج بنانے کا حکم

سوال

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام مندرجہ ذیل کے مسئلے کے بارے میں کہ ایک عیدگاہ ہے جو چار ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے حکومت والے کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنی جانب سے ایک لڑکیوں کا کالج بنائیں گے جو مینارٹی سے متعلق ہوگا جس میں مسلمان عیسائی سکھ بدھ جتنے مائنارٹی ہیں وہ سب پڑھیں  اور خاص بات توجہ کی یہ کہ 60 فیصد مسلم بچیاں پڑھینگی اس میں قوم کا بھی فائدہ ہوگا پورے شہر میں کوئی ایک لڑکیوں کا کالج نہیں ہے جس کی بنیاد پر کافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے ایسی صورت میں ہمارے پاس جو عید گاہ کی جگہ ہے عید گاہ کے داخلی حصے میں ایک ایکڑ جگہ ہم کالج کے لیے دے سکتے ہیں؟ یہاں  وہ عید گاہ کی جگہ بھی گورمنٹ ہی کی جانب سے دیگی ہے اور قبرستان کے لے بھی دیگی تھی لیکن اب وہاں صرف وہاں عید گاہ کے لے استعمال کیا جارہا ہے   اور ایک سے دو ایکڑ  جگہ  عید گاہ  کی نماز کے لے بھی استعمال میں نہی آتی ہے کیونکہ لوگ دو ڈھائ ایکڑ میں ہی نماز ادا کرلیتے ہیں  اشٹیٹ وقف بورڈ کی جانب سے یہ گزارش دی گی ہے کہ اس جگہ کو اشٹیٹ وقف بورڈ کے حوالے کریں جتنی جگہ  میں کالج تعمیر کرنا ہے اور وقف کی جگہ وقف کے انڈر ہی رہگی حکومت کی جانب سے تعمیر کرنے کے لے جو رقم دی جارہی ہے چونکہ  حکومت وقف   مائنارٹی کی جانب سے فنڈ لینا ہے اس لۓ  لفظ مائنارٹی کا نام داخل کیا گیا ہے  ۔وقف کے کے انڈر ۔عیدگاہ۔کی جگہ قبرستان  کی جگہ  عاشور خانہ کی جگہ درگاہ ۔کی جگہ  اور کچھ مخلص احباب نے قوم وملت کی بھلائ کے لے جو جگاہیں وقف کۓ ہیں۔کیا  ان جگہوں پر کالج بنوا سکتے ہیں۔۔ ۔اور  یہ صرف ہمارے شہر ہی کے لے نہی بلکہ کرناٹک کہ ہر ضلع میں کالج  قائم کر نے لے  حکومت وقف کی جانب سے  تجویز  پیش کی گی ہے  ۔جب کہ کئ اضلاع  میں اس تجویزکو منضوری  دیا جاچکا ہے ۔نوٹ۔لہذا اب اس وقت میں جو حالات وقف کے مسائل  چل رہے ہیں ۔اسکو سامنے رکھکر ۔اور  شہر کے غریب بچیوں کے فایدہ  کے لے   کیا کالج وقف کی جگہ پر بنایا جا سکتا ہے ۔ اس پر دلائل کی روشنی میں تصلی  بخش جواب دیں ۔۔

جواب

جو زمین عیدگاہ یاقبرستان کے وقف کردی گی ہو اس میں اسکول یا کالج بنانا شرعاً جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

(قَوْلُهُ: وَجَازَ شَرْطُ الِاسْتِبْدَالِ بِهِ إلَخْ) اعْلَمْ أَنَّ الِاسْتِبْدَالَ عَلَى ثَلَاثَةِ وُجُوهٍ: الْأَوَّلُ: أَنْ يَشْرِطَهُ الْوَاقِفُ لِنَفْسِهِ أَوْ لِغَيْرِهِ أَوْ لِنَفْسِهِ وَغَيْرِهِ، فَالِاسْتِبْدَالُ فِيهِ جَائِزٌ عَلَى الصَّحِيحِ وَقِيلَ اتِّفَاقًا. وَالثَّانِي: أَنْ لَا يَشْرُطَهُ سَوَاءٌ شَرَطَ عَدَمَهُ أَوْ سَكَتَ لَكِنْ صَارَ بِحَيْثُ لَا يُنْتَفَعُ بِهِ بِالْكُلِّيَّةِ بِأَنْ لَا يَحْصُلَ مِنْهُ شَيْءٌ أَصْلًا، أَوْ لَا يَفِي بِمُؤْنَتِهِ فَهُوَ أَيْضًا جَائِزٌ عَلَى الْأَصَحِّ إذَا كَانَ بِإِذْنِ الْقَاضِي وَرَأْيِهِ الْمَصْلَحَةَ فِيهِ. وَالثَّالِثُ: أَنْ لَا يَشْرُطَهُ أَيْضًا وَلَكِنْ فِيهِ نَفْعٌ فِي الْجُمْلَةِ وَبَدَلُهُ خَيْرٌ مِنْهُ رِيعًا وَنَفْعًا، وَهَذَا لَا يَجُوزُ اسْتِبْدَالُهُ عَلَى الْأَصَحِّ الْمُخْتَارِ كَذَا حَرَّرَهُ الْعَلَّامَةُ قَنَالِي زَادَهْ فِي رِسَالَتِهِ الْمَوْضُوعَةِ فِي الِاسْتِبْدَالِ، وَأَطْنَبَ فِيهَا عَلَيْهِ الِاسْتِدْلَالَ وَهُوَ مَأْخُوذٌ مِنْ الْفَتْحِ أَيْضًا كَمَا سَنَذْكُرُهُ عِنْدَ قَوْلِ الشَّارِحِ لَا يَجُوزُ اسْتِبْدَالُ الْعَامِرِ إلَّا فِي أَرْبَعٍ وَيَأْتِي بَقِيَّةُ شُرُوطِ الْجَوَازِ.

(کتاب الوقف ،مطلب فی استبدال الوقف و شروطہ 4/384 ط سعید)

احسن الفتاویٰ میں ہے :

سوال :ُشریعت مطہرہ کا حکم اس بارہ میں کیا ہے کہ عیدگاہ کی جگہ پر اسکول بنایا جائے اور عیدگاہ کے لئے دوسری جگہ معین کی جائے تو جائز ہے یا نہیں؟

جواب:اگر عیدگاہ وقف ہے تو اس میں اسکول بنانا جائز نہیں ،اس لئے کہ جہت وقف کا بدلنا صحیح نہیں ۔لان شرط الواقف کنص الشارع ۔

(کتاب الوقف ،باب المساجد 6/424 ط سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

وقف زمین میں اسکول بنانے سے متعلق سوال کیا گیا تھا تو اس کے جواب میں "فتاوی محمودیہ" کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:

"ناجائز ہے،جس کام کے لئے واقف نے وہ قطعہ زمین وقف کیا ہے اس کے خلاف میں استعمال کرنا جائز نہیں اور اس کو اور دیگر نمازیان وغیرہ کسی کو بھی شرعاً یہ حق حاصل نہیں کہ واقف کی غرض کے خلاف کسی دوسرے کام میں اس وقف کو صرف کریں یا منتقل کریں۔

(کتاب الوقف،باب فی استبدال الوقف وبیعہ 14/339 ط فاروقیہ)

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاوی میں ہے:

واضح رہے کہ اگر کوئی زمین مدرسہ یا مسجد یا عید گاہ کے  لیے وقف کردی گئی، اور متولی یا ذمہ داران کے حوالہ کردی گئی، تو یہ زمین واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں چلی گئی، وقف مکمل ہونے کے بعد اس میں کسی قسم کی تبدیلی جائز نہیں، خود وقف کرنے والے کو بھی اس میں ردوبدل کرنا جائز نہیں، ہاں اگر واقف نے وقف کرتے ہوئے ضرورت کے وقت وقف کی جہت تبدیل کرنے کی شرط لگائی تھی تو اب وہ جہتِ وقف میں تبدیلی کرسکتا ہے ورنہ نہیں ۔

(عید گاہ کی زمین میں واقف کی اجازت سے قریبی مدرسہ کے لیے گھر بنانا،فتویٰ نمبر : 144406101381)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                 17جمادی الثانیہ 1447ھ/9 دسمبر 2025 ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:507