info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

عشر کی رقم تملیک کرائے بغیر تنخواہ میں دے دی تو اب کیا حکم ہوگا؟

سوال

ایک مدرسہ کے مہتمم صاحب ایک مدرس کو تین سال تک تنخواہ کی جگہ عشر کے پیسے بطور تنخواہ دیتے رہے بغیر تملیک کروائے اور بغیر مدرس کے علم میں لائے(عشر کو)۔بعد میں مسئلہ معلوم ہوا کہ تملیک کرانی چاہئے تھی ۔اب کیا دوبارہ تنخواہ دینی پڑے گی یا نہیں ؟اور حال یہ ہے مدرس مستحق عشر ہے۔

جواب

دینی مدارس کے مہتممین شرعاً طلباء کرام کے وکیل ہیں،مالداروں کے وکیل نہیں ہیں ،لہذا جب کوئی شخص دینی مدرسہ میں زکوٰۃ یا عشر کی رقم جمع کراتا ہے ،مہتمم صاحب یا انہوں نے جن کو اموال جمع کرنے کی اجازت دے رکھی ان کے قبضہ میں زکوٰۃ کی آتی ہی ،صاحب مال کی زکوٰۃ اور عشر ادا ہوجاتا ہے ،لیکن مہتمم مدرسہ کے لئے مذکورہ مال کو مصرف زکوۃ یعنی طلباء کرام کی ضروریات وغیرہ میں خرچ کرنا ضروری ہے۔ تملیک کرائے بغیر  مذکورہ رقم کومدرسین کی تنخواہ یا تعمیرات میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔

صورت مسؤلہ میں مدرسہ کے مہتمم صاحب نے لاعلمی میں عشر کی رقم تملیک کرائے بغیر مدرس کو تنخواہ میں دی تو اس صورت میں عشر دینے والوں کا عشر تو ادا ہوگیا ،لیکن مدرس کی تنخواہ ادا نہ ہوئی ،اب مہتمم صاحب پر لازم ہے کہ وہ مدرس کو تین سال کی تنخواہ دوبارہ ادا کریں ،اور جو عشر کی رقم مہتمم نے مدرس کو دی ہے ،وہ اس سے واپس لیکر طلباء کی ضروریات پر خرچ کی جائے۔

زکوۃ کے مسائل کے انسائیکلوپیڈیا میں ہے:

دینی مدارس کے مہتمم طلباء کے وکیل ہیں ،مالداروں کے وکیل نہیں ہیں،کیونکہ مدرسہ کے طلباء نے جب ان کے اہتمام کو تسلیم کرلیا تو گویا یہ کہدیا کہ آپ ہمارے واسطے مالداروں سے زکوۃ وغیرہ وصول کرکے ہماری ضروریا ت میں صرف کردیں ،لہذا زکوۃ کی رقم مہتمم یا اس کے نمائندہ کےپاس جمع ہوتے ہی زکوۃ ادا ہوجائے گی ،البتہ مہتمم پر ضروری ہوگا کہ وہ زکوۃ کی رقم صرف طلباء کی ضروریا ت مثلا کھانا،پینا ،کپڑا،وظیفہ اور علاج وغیرہ میں خرچ کریں ،تنخواہ،بل وغیرہ میں خرچ نہ کریں۔

 

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                      5ربیع الثانی 1447ھ/29 ستمبر 2025 ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:484