info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

سودی رقم سے گھر اور گاڑی خریدی،اس کی تطہیر کی صورت؟

سوال

 والد صاحب کی زندگی میں ہی ہم نے ایک پلاٹ لیا تھا اور اس کی اقساط ادا کرنے کے لئے کچھ پیسے المیزان انویسٹمنٹ میں انوسٹ کردئیے تھے. اس انویسٹمنٹ کی بدولت ہمیں جو منافع ملا اس میں کچھ

 

 اور پیسے ملا کے ایک عدد کار لی اور اس وقت والد صاحب بھی حیات تھے.

 

 سوال یہ ہے کے ان کی وفات کے بعد اب یہ گاڑی / کار کس کی ملکیت ہے؟ کیا یہ بھی انکی وراثت کے زمرے میں آتی ہے؟ اگر آتی ہے تو اس کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

 

اور جو گاڑی لی تھی اس میں والد صاحب کے 3 لاکھ اور 50 ہزار میرے تھے۔

 

گھر کے کل افراد ابھی والدہ کو ملا کے 06 ہے۔ جس میں سے 2 بھائی، 3 بہنیں اور 1 والدہ۔

 

اور اگر سب کے حصّہ دینا لازم ہو تو وقتاً فوقتا دیئے جا سکتے ہیں یا ایک ساتھ یکمشت دینا ہوگا؟

 

اس کے علاوہ والد صاحب نے اس گاڑی کو کبھی اپنا نہیں سمجھا اور نہ ہی اسکو چلانا وہ پسند کرتے تھے۔ اور نہ ہی اس گاڑی پر کبھی اپنا حق جتایا ۔ اور نہ ہی وہ والد صاحب کے نام پر تھی۔

 

تنقیحات:پلاٹ والدہ کےنام پر تھا،اور پیسے والد صاحب نے ادا کئے تھے۔المیزان میں پیسے انویسٹ کئے تھے پلاٹ کی قسط ادا کرنے کے لئے اور وہ رقم بھی والد صاحب نے ادا کی تھی۔اور جب میں نے

 

 گاڑی لی تھی تو اس میں اکثر رقم والد صاحب کی تھی اور کچھ رقم میری تھی ،والد نے یہ رقم دیتے وقت نہ تو کچھ معاہدہ ہوا تھا اور نہ ہی قرض کے طور پر دئیے تھے۔

جواب

المیزان انوسمنٹ میں رقم انوسٹ کرنا اور ا س سے منافع حاصل کرنا ،ملک بھر کر جمہور مفتیان کرام کے ہاں ناجائز ،حرام اور سود کے حکم میں داخل ہے،اور ایسی رقم(یعنی سودی منافع) کو ثواب کی نیت

 

 کے بغیر غرباء اور مستحقین میں صدقہ کرنا ضروری ہے ، اور اس میں وراثت بھی جاری نہیں ہوتی۔لہذا المیزان میں رقم جمع کرواکر حاصل ہونے والے سودی نفع سے  پلاٹ کی اقساط ادا کرنا  اور گاڑی خریدنا

 

 جائز نہ تھا۔اب اس مکان اور گاڑی کی تطہیر (پاکی) کا طریقہ یہ ہے کہ بینک میں رقم انوسٹ کروانے سے جتنا نفع حاصل ہوا ،اس کا مکمل حساب لگاکر اتنی رقم ثواب کی نیت کے بغیر غرباء،فقراءاور مساکین

 

 پر یکمشت یا اقساط کی صورت میں صدقہ کردی جائے،اور حرام کمائی سےصدق دل توبہ واستغفار بھی کرے اور آئندہ کے لئے سودی معاملہ  نہ کرنے کا عزم بھی کرے۔

 

صورت مسؤلہ میں سائل نے جب گاڑی خریدی تو اس میں اکثر رقم والد مرحوم کی تھی اور کچھ رقم سائل کی تھی ۔گاڑی خریدتے وقت اگر والد مرحوم نے سائل کو وہ رقم ہدیہ دینے کی صراحت کی تھی تو

 

 اس صورت میں مذکورہ گاڑی سائل کی ملکیت شمار ہوگی اور اس میں وراثت جاری نہ ہوگی بصورت دیگر وہ بھی والد مرحوم کے ترکہ میں شامل ہوکر تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے بقدر تقسیم ہوگی۔

 

ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوق مقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد  ،اگر اس  پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کرکے،اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی مال میں سے ادا کرکے بقیہ کل جائیداد منقولہ(سونا ،چاندی ،نقدی وغیرہ)و غیر منقولہ (مکان ،زمین وغیرہ )کو 8 حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ بیوہ کو ،2 حصے ہر ایک بیٹے کو ،اور ایک ایک حصہ ہرایک بیٹی کو ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہوگی :

8

 

 

بیوہ

 

1

بیٹی

 

1

بیٹی

 

1

بیٹی

 

1

بیٹا

 

2

بیٹا

 

2

میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

7

 

 

 

 

 

 

یعنی کل ترکہ میں سے 12.5 فیصد حصہ بیوہ کو،25 فیصد حصہ ہر ایک بیٹے کو،اور 12.5 فیصد حصہ ہرایک بیٹی کو ملیں گے۔

 

فتاوی شامی میں ہے:

وَالْحَاصِلُ أَنَّهُ إنْ عَلِمَ أَرْبَابَ الْأَمْوَالِ وَجَبَ رَدُّهُ عَلَيْهِمْ، وَإِلَّا فَإِنْ عَلِمَ عَيْنَ الْحَرَامِ لَا يَحِلُّ لَهُ وَيَتَصَدَّقُ بِهِ بِنِيَّةِ صَاحِبِهِ، وَإِنْ كَانَ مَالًا مُخْتَلِطًا مُجْتَمِعًا مِنْ الْحَرَامِ وَلَا يَعْلَمُ أَرْبَابَهُ وَلَا شَيْئًا مِنْهُ بِعَيْنِهِ حَلَّ لَهُ حُكْمًا، وَالْأَحْسَنُ دِيَانَةً التَّنَزُّهُ عَنْهُ فَفِي الذَّخِيرَةِ: سُئِلَ الْفَقِيهُ أَبُو جَعْفَرٍ عَمَّنْ اكْتَسَبَ مَالَهُ مِنْ أُمَرَاءِ السُّلْطَانِ وَمِنْ الْغَرَامَاتِ الْمُحَرَّمَاتِ وَغَيْرِ ذَلِكَ هَلْ يَحِلُّ لِمَنْ عَرَفَ ذَلِكَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ طَعَامِهِ؟ قَالَ أَحَبُّ إلَيَّ فِي دِينِهِ أَنْ لَا يَأْكُلَ وَيَسَعُهُ حُكْمًا إنْ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ الطَّعَامُ غَصْبًا أَوْ رِشْوَةً وَفِي الْخَانِيَّةِ: امْرَأَةٌ زَوْجُهَا فِي أَرْضِ الْجَوْرِ، وَإِنْ أَكَلَتْ مِنْ طَعَامِهِ وَلَمْ يَكُنْ عَيْنُ ذَلِكَ الطَّعَامِ غَصْبًا فَهِيَ فِي سَعَةٍ مِنْ أَكْلِهِ وَكَذَا لَوْ اشْتَرَى طَعَامًا أَوْ كِسْوَةً مِنْ مَالٍ أَصْلُهُ لَيْسَ بِطَيِّبٍ فَهِيَ فِي سَعَةٍ مِنْ تَنَاوُلِهِ وَالْإِثْمُ عَلَى الزَّوْجِ. اهـ

(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب فیمن ورث مالا حراما5/99 ط سعید)

(وَتَصِحُّ بِإِيجَابٍ كَ وَهَبْت وَنَحَلْت وَأَطْعَمْتُك هَذَا الطَّعَامَ وَلَوْ) ذَلِكَ (عَلَى وَجْهِ الْمِزَاحِ) بِخِلَافِ أَطْعَمْتُك أَرْضِي فَإِنَّهُ عَارِيَّةٌ لِرَقَبَتِهَا وَإِطْعَامٌ لِغَلَّتِهَا بَحْرٌ (أَوْ الْإِضَافَةِ إلَى مَا) أَيْ إلَى جُزْءٍ (يُعَبَّرُ بِهِ عَنْ الْكُلِّ كَ وَهَبْت لَك فَرْجَهَا وَجَعَلْته لَك)۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (وَتَتِمُّ) الْهِبَةُ (بِالْقَبْضِ) الْكَامِلِ

(کتاب الھبۃ 5/688 تا 690 ط سعید)

حضرت مفتی عبدالسلام چاٹگامی مدظلہ العالی "اسلامی معیشت کے بنیادی اصول "میں  لکھتے ہیں:

 

لہذا ایسے مال کے خبث اور حرمت سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی سب سے پہلا کام یہ کرے کہ ان ناجائز ذرائع آمدن کو ترک کردے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے ،توبہ واستغفار کرے۔دوسرا کا

 

 م یہ کرے کہ ناجائز اور حرام کو بلا نیت ثواب فقراء میں صدقہ کرکے اپنے آپ کو فارغ کرے ،حلال اور جائز آمدنی کا انتظام کرے اور حلال روزی اور کمائی پر اکتفاء کرے خواہ اس کی مقدار کم ہو۔

 

(حرام مال سےاپنے آپ کو پاک اور بری کرنے کی مختلف صورتیں،صفحہ 260 ط اسلامی کتب خانہ)

 

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                     15 ربیع الثانی 1447ھ/9اکتوبر2025 ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:485