فتوے
نماز یا خارج نماز میں قرآن پاک کی تلاوت سننے کا حکم
سوال
قرآن پاک کی تلاوت سننا واجب ہے یا مستحب ؟برائے مہربانی حوالے کی ساتھ جواب مطلوب ہے ۔
جواب
نماز کے دوران امام اگر قرآن کریم کی جہراً (باآواز بلند )تلاوت کررہا ہو تو مقتدیوں پر قرآن کریم کی تلاوت سننا واجب ہے، اور اسی طرح اگر جمعہ،عیدین یا نکاح کے خطبہ میں قرآن کریم کی آیت پڑھی جائے تو شرکاء پر قرآن کریم کی تلاوت سننا واجب ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَإِذَا قُرِی ٱلۡقُرۡءَانُ فَٱسۡتَمِعُواْ لَهُۥ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
(سورۃ الاعراف 204)
ترجمہ:اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کی طرف کان لگائے رہو اور چپ رہوتاکہ تم پر رحم ہو۔(تفسیر عثمانی)
نماز اور خطبہ کے علاوہ اگر کوئی شخص تلاوت کررہا ہے ،یا قرآن کریم کی تلاوت کی ریکارڈنگ چل رہی ہے یا کوئی شخص نماز میں جہراً تلاوت کررہا ہے لیکن سننا والا اس کا مقتدی نہیں ہے تو ایسی صورت میں فقہاء کرام کا کچھ اختلاف ہے ،بعض حضرات ایسے موقع پر بھی تلاوت سننے کو واجب کہتے ہیں جبکہ دوسرے فقہاء کرام ایسے موقع پر تلاوت سننے کو واجب نہیں کہتے تاہم تمام فقہاء کرام کے نزدیک اولیٰ،بہتر اور مستحب یہی ہے کہ خارج نماز بھی اگر کہیں تلاوت ہورہی ہو تو خاموش رہے اور توجہ سے تلاوت سنے ۔لہذا جہاں لوگ سونے یا اپنے کاموں میں مشغول ہوں اور مصروفیت کی وجہ سے تلاوت سننے کی طرف متوجہ نہ ہوسکتے ہوں تو ایسے مواقع پر باآواز بلند تلاوت کرنا یا اس کی ریکارڈنگ چلادینا مناسب نہیں ہے۔
تفسیر معارف القرآن میں مفتی شفیع عثمانی ؒ لکھتے ہیں:
فقہاء نے فرمایا ہے کہ جو حکم خطبہ جمعہ کا ہے وہی عیدین کے خطبہ کا اور نکاح وغیرہ کے خطبہ کا ہے کہ اس وقت کان لگانا اور خاموش رہنا واجب ہے۔
البتہ نماز اور خطبہ کے علاوہ عام حالات میں کوئی شخص بطور خود تلاوت کر رہا ہے تو دوسروں کو خاموش رہ کر اس پر کان لگانا واجب ہے یا نہیں، اس میں فقہاء کے اقوال مختلف ہیں، بعض حضرات نے اس صورت میں بھی کان لگانے اور خاموش رہنے کو واجب اور اس کے خلاف کرنے کو گناہ قرار دیا ہے، اور اسی لئے ایسی جگہ جہاں لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں یا آرام کرتے ہوں کسی کے لئے بآواز بلند قرآن پڑھنے کو جائز نہیں رکھا، اور جو شخص ایسے مواقع میں قرآن بآواز بلند پڑھتا ہے اس کو گناہگار فرمایا ہے، خلاصتہ الفتاوی وغیرہ میں ایسا ہی لکھا ہے۔
لیکن بعض دوسرے فقہاء نے یہ تفصیل فرمائی ہے کہ کان لگانا اور سننا صرف ان جگہوں میں واجب ہے جہاں قرآن کو سنانے ہی کے لئے پڑھا جارہا ہو، جیسے نماز و خطبہ وغیرہ میں، اور اگر کوئی شخص بطور خود تلاوت کر رہا ہے یا چند آدمی کسی ایک مکان میں اپنی تلاوت کر رہے ہیں تو دوسرے کی آواز پر کان لگانا اور خاموش رہنا واجب نہیں، کیونکہ احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک سفر میں رات کو پڑاؤ ڈالنے کے بعد صبح کو فرمایا کہ میں نے اپنے اشعری رفقائے سفر کو ان کی تلاوت کی آوازوں سے رات کے اندھیرے میں پہچان لیا کہ ان کے خیمے کس طرف اور کہاں ہیں، اگرچہ دن میں مجھے ان کے جائے قیام کا علم نہیں تھا۔
اس واقعہ میں بھی رسول کریم ﷺ نے ان اشعری حضرات کو اس سے منع نہیں فرمایا کہ بلند آواز سے کیوں قرأت کی اور نہ سونے والوں کو ہدایت فرمائی کہ جب قرآن پڑھا جارہا ہو تو تم سب بیٹھو اور قرآن سنو۔
اس قسم کی روایات سے فقہاء نے خارج نماز کی تلاوت کے معاملہ میں کچھ گنجائش دی ہے، لیکن اولی اور بہتر سب کے نزدیک یہی ہے کہ خارج نماز بھی جب کہیں سے تلاوت قرآن کی آواز آئے تو اس پر کان لگائے اور خاموش رہے اور اسی لئے ایسے مواقع میں جہاں لوگ سونے میں یا اپنے کاروبار میں مشغول ہوں تلاوت قرآن بآواز بلند کرنا مناسب نہیں۔
اس سے ان حضرات کی غلطی معلوم ہوگئی جو تلاوت قرآن کے وقت ریڈیو ایسے مجامع میں کھول دیتے ہیں جہاں لوگ اس کے سننے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے، اسی طرح رات کو لاؤڈ اسپیکر لگا کر مسجدوں میں تلاوت قرآن اس طرح کرنا کہ اس کی آواز سے باہر کے سونے والوں کی نیند یا کام کرنے والوں کے کام میں خلل آئے، درست نہیں۔
(سورۃ الاعراف آیت 204 جلد4 صفحہ 163،164 ط مکتبہ معارف القرآن)
«تفسير الألوسي روح المعاني - ط العلمية» (5/ 142):
«وسبب النزول لم يكن القراءة في الصلاة بل أمر آخر. فقد روى أبو هريرة رضي الله تعالى عنه أنهم كانوا يتكلمون في الصلاة فنزلت، وحاصلها النهي عن التكلم لا عن القراءة، ومن الناس من فسر القرآن بالخطبة، والأمر بالاستماع إما للوجوب أو الندب، وعندنا الإنصات في الخطبة فرض على تفصيل في المسألة، وأخرج غير واحد عن مجاهد رضي الله تعالى عنه أن الآية في الصلاة والخطبة يوم الجمعة، وفي كلام أصحابنا ما يدل على وجوب الاستماع في الجهر بالقرآن مطلقا.
قال في الخلاصة: رجل يكتب الفقه وبجنبه رجل يقرأ القرآن فلا يمكنه استماع القرآن فالاثم على القارئ، وعلى هذا لو قرأ على السطح في الليل جهرا والناس نيام يأثم، وهذا صريح في إطلاق الوجوب»
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
03 رجب المرجب 1447ھ/20 جنوری 2026ء
فتویٰ نمبر:515
