info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

نماز جمعہ کے لئے شہر یا قریہ کبیرہ ضروری ہے

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تھر انسٹی ٹیوٹ آف انجئیرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی مٹھٹہ بھٹی میں واقع ہے،یہ جگہ اسلام کوٹ اور مٹھی دونوں شہروں کے بیچ میں مین روڈ پر واقع ہے ،دونوں شہروں سے فاصلہ تقریبا 20،20 کلومیٹر ہے ،یہاں پڑھنے والے طلبہ اوراساتذہ کرام اور ملازمین مٹھی شہر میں رہتے ہیں اور روز صبح  یونیورسٹی کی بس میں مٹھی سے یہاں آتے ہیں  اور شام کو واپس  مٹھی جاتے ہیں ،نماز کے لئے ہم نے کیمپس میں ایک جگہ مختص کی ہے ،لیکن جمعہ کی نماز کا مسئلہ ہے ،یہاں سے 3 کلو میٹر دور ایک گاؤں ہے جہاں ایک چھوٹی سی مسجد  ہے جہاں نماز جمعہ ادا کیا جاتا ہے ،گاؤں کا نام مٹھٹہ یو ہے یہ چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں زیادہ تعداد ہندؤں کی ہے  ہمارے شاگردوں کی کل تعداد 175 ہے جن میں اندازا 50 فیصد مسلمان ہیں ،اسٹاف اوراساتذہ کرام کی تعداد 35 ہے،ہمارے پاس ایک بس ہے جو روز صبح  تین چکر ان کو لانے کے لئے لگاتی ہے،کیمپس سے 20 منٹ کا وقت لگتاہے اور ایک چکر پورا ہونے کے لئے ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے اس طرح  دوپہر 2:50 واپسی کے تین چکر لگتے ہیں ان سب کو اپس چھوڑنے کے لئے ۔ہم یہ چاہتے ہیں جمعہ کی بھی  ہم اپنے کیمپس  میں ادا کرسکیں اس کے لئے آپ سے شرعی فتو یٰ درکار ہے ۔کیا ہم اپنے کیمپس میں جو جگہ نماز کے لئے مقرر کی ہے اس  میں جمعہ کی نماز باجماعت ادا کرسکتے ہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ جمعہ کی نماز ادا کرنے لئے شہر،یاایسی بڑی بستی اور دیہات ہونا ضروری ہے جس کی آبادی کم از کم  ڈھائی ،تین ہزار  افراد پر مشتمل ہو اور اس میں ضروریات زندگی میسر ہوں،گوشت سبزی،راشن کی دوکانیں موجود ہوں،حکیم ،ڈاکٹر ہوں ،حاکم یا پنچائیت کا نظام موجود ہو،درزی ،موچی اور ضروری پیشہ وروہاں موجود ہوں ،اور آس پاس دیہات والے اپنی ضروریات وہاں سے پوری کرتے ہوں۔

صورت مسؤلہ میں مذکورہ یونیورسٹی مٹھٹہ بھٹی  میں واقع ہے اگر وہاں جمعہ کی مذکورہ بالا شرائط پائی جاتی ہیں تو ان کا یونیورسٹی میں نماز جمعہ  قائم کرنا جائز ہے ،بصورت دیگر جمعہ کی نماز پڑھنا جائز نہیں ہے بلکہ ظہر کی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

(وَيُشْتَرَطُ لِصِحَّتِهَا) سَبْعَةُ أَشْيَاءَ:

الْأَوَّلُ: (الْمِصْرُ وَهُوَ مَا لَا يَسَعُ أَكْبَرُ مَسَاجِدِهِ أَهْلَهُ الْمُكَلَّفِينَ بِهَا) وَعَلَيْهِ فَتْوَى أَكْثَرِ الْفُقَهَاءِ مُجْتَبًى لِظُهُورِ التَّوَانِي فِي الْأَحْكَامِ وَظَاهِرُ الْمَذْهَبِ أَنَّهُ كُلُّ مَوْضِعٍ لَهُ أَمِيرٌ وَقَاضٍ يَقْدِرُ عَلَى إقَامَةِ الْحُدُودِ كَمَا حَرَّرْنَاهُ فِيمَا عَلَّقْنَاهُ عَلَى الْمُلْتَقَى.

وَالْحَدُّ الصَّحِيحُ مَا اخْتَارَهُ صَاحِبُ الْهِدَايَةِ أَنَّهُ الَّذِي لَهُ أَمِيرٌ وَقَاضٍ يُنَفِّذُ الْأَحْكَامَ وَيُقِيمُ الْحُدُودَ وَتَزْيِيفُ صَدْرِ الشَّرِيعَةِ لَهُ عِنْدَ اعْتِذَارِهِ عَنْ صَاحِبِ الْوِقَايَةِ حَيْثُ اخْتَارَ الْحَدَّ الْمُتَقَدِّمَ بِظُهُورِ التَّوَانِي فِي الْأَحْكَامِ مُزَيَّفٌ بِأَنَّ الْمُرَادَ الْقُدْرَةُ عَلَى إقَامَتِهَا عَلَى مَا صَرَّحَ بِهِ فِي التُّحْفَةِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ بَلْدَةٌ كَبِيرَةٌ فِيهَا سِكَكٌ وَأَسْوَاقٌ وَلَهَا رَسَاتِيقُ وَفِيهَا وَالٍ يَقْدِرُ عَلَى إنْصَافِ الْمَظْلُومِ مِنْ الظَّالِمِ بِحِشْمَتِهِ وَعِلْمِهِ أَوْ عِلْمِ غَيْرِهِ يَرْجِعُ النَّاسُ إلَيْهِ فِيمَا يَقَعُ مِنْ الْحَوَادِثِ وَهَذَا هُوَ الْأَصَحُّ اهـ إلَّا أَنَّ صَاحِبَ الْهِدَايَةِ تَرَكَ ذِكْرَ السِّكَكِ وَالرَّسَاتِيقِ لِأَنَّ الْغَالِبَ أَنَّ الْأَمِيرَ وَالْقَاضِيَ الَّذِي شَأْنُهُ الْقُدْرَةُ عَلَى تَنْفِيذِ الْأَحْكَامِ وَإِقَامَةِ الْحُدُودِ لَا يَكُونُ إلَّا فِي بَلَدٍ كَذَلِكَ. اهـ.

(کتاب الصلوۃ باب الجمعہ 2/137 ط سعید )

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن  کے فتاویٰ میں ہے:

واضح  رہے کہ جمعہ کی نماز صحیح ہونے  کے لیے مصر ، فناء مصر یا ایسا قریہ کبیرہ ہونا شرط ہے  جس کی آبادی تقریباً ڈھائی سے تین ہزار تک ہو اور اس میں روزمرہ ضروریات کی اشیاء کے لیے  بازار یا دکانیں  موجود ہوں اس کے برعکس قریہ صغیرہ(چھوٹا گاؤں ، چھوٹی بستی) میں ،جہاں مذکورہ بالا شرائط نہ ہوں جمعہ کی نماز   پڑھنا جائز نہیں ہے بلکہ ایسے گاؤں کے لوگوں پر جمعہ کے دن ظہر کی نماز پڑھنا فرض ہے۔

(گاؤں کے مضافات میں واقع بستیوں میں نماز جمعہ کا حکم فتوی نمبر : 144303100203)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                      30ربیع الاول 1447ھ/24 ستمبر 2025 ء

                                               فتویٰ نمبر:481