info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

خدا کی قسم جب بھی میں یہ گناہ کروں تو ہزار روپے صدقہ دوں گا

سوال

میرا ایک سوال ہے۔اس کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں :میں نے خدا کی قسم کھائی کہ جب بھی میں یہ گناہ کروں گا تو ہر بار 1000 روپے صدقہ دوں گا ،یا یہ کہ میں یہ گناہ نہیں کروں گا

 اگر کبھی کیا تو ہر بار 1000 روپے صدقہ دوں گا ،پھر میں نے یہ گناہ 4 بار کرلیا تو اب اس کا کفارہ ادا ہوگا یا 4000 روپے صدقہ دینا ہوگا یا دونوں ادا کرنا ہوں گے؟

جواب

                            

واضح رہے کہ اگر نذر کو ایسے الفاظ کے ساتھ معلق کیا جس کا ہونا مطلوب  ومقصود ہو تو یہ فقط نذر ہوگی اور نذر پوری ہونے کی صورت میں جس چیز کی نذر مانی گی ہے اس کا ادا کرنا ضروری ہوگا۔اور اگر نذر کو ایسی چیز کے ساتھ معلق کیا گیا جس کا نہ ہونا مطلوب ومقصود ہو تو یہ ایک اعتبار سے نذر ہے اور ایک اعتبار سے یمین (قسم )ہےلہذا شرط پائے جانے کی صورت میں مذکورہ شخص کو اختیار ہوگا کہ چاہے وہ قسم کا کفارہ دے دے یا جو نذر مانی ہے اس کو ادا کردے۔

صورت مسؤلہ میں سائل نے جب یہ کہا کہ "خدا کی قسم جب بھی میں یہ گناہ کروں تو ہر بار 1000 روپے صدقہ دوں گا"اس کے بعد سائل نے 4 مرتبہ مذکورہ گناہ کرلیا تو اب اس کو اختیار ہے چاہے 4000 روپے صدقہ کردے یا قسم توڑنے  کا کفارہ ادا کردے ،قسم کا کفارہ یہ ہے کہ  دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت دے دے( یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی رقم )اور اگر جو، کھجور یا کشمش دے تو اس کا دو گنا (تقریباً ساڑھے تین کلو) دے،  یا دس فقیروں کو  ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دے۔

اور اگر  کوئی ایسا غریب ہے کہ نہ تو کھانا کھلا سکتا ہے اور نہ کپڑا دے سکتا ہے تو مسلسل تین روزے رکھے، اگر الگ الگ کر کے تین روزے پورے کر لیے  تو کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ اگر دو روزے رکھنے کے بعد درمیان میں کسی عذر کی وجہ سے ایک روزہ چھوٹ گیا تو اب دوبارہ تین روزے رکھے۔

اور سائل کے بہتر یہ ہے کہ گناہوں سے بچنے کے لئے اور اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے جوڑنے  کے لئےکسی شیخ کامل متبع سنت سے اصلاحی تعلق قائم کرلے،اس تعلق کی برکت سے گناہ خود بخود چھوٹنا شروع ہوجائیں گے۔

فتاوی شامی میں ہے:

ثُمَّ إنَّ) الْمُعَلَّقَ فِيهِ تَفْصِيلٌ فَإِنْ (عَلَّقَهُ بِشَرْطٍ يُرِيدُهُ كَأَنْ قَدِمَ غَائِبِي) أَوْ شُفِيَ مَرِيضِي (يُوَفِّي) وُجُوبًا (إنْ وُجِدَ) الشَّرْطُ (وَ) إنْ عَلَّقَهُ (بِمَا لَمْ يُرِدْهُ كَإِنْ زَنَيْت بِفُلَانَةَ) مَثَلًا فَحَنِثَ (وَفَّى) بِنَذْرِهِ (أَوْ كَفَّرَ) لِيَمِينِهِ (عَلَى الْمَذْهَبِ) لِأَنَّهُ نَذْرٌ بِظَاهِرِهِ يَمِينٌ بِمَعْنَاهُ فَيُخَيَّرُ ضَرُورَةً.

قَوْلُهُ لِأَنَّهُ نَذْرٌ بِظَاهِرِهِ إلَخْ) لِأَنَّهُ قَصَدَ بِهِ الْمَنْعَ عَنْ إيجَادِ الشَّرْطِ فَيَمِيلُ إلَى أَيِّ الْجِهَتَيْنِ شَاءَ بِخِلَافِ مَا إذَا عَلَّقَ بِشَرْطٍ يُرِيدُ ثُبُوتَهُ لِأَنَّ مَعْنَى الْيَمِينِ وَهُوَ قَصْدُ الْمَنْعِ غَيْرُ مَوْجُودٍ فِيهِ لِأَنَّ قَصْدَهُ إظْهَارُ الرَّغْبَةِ فِيمَا جُعِلَ شَرْطًا دُرَرٌ

(کتاب الایمان 3/738،739 ط سعید)

الھدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:

ومن نذر نذرا مطلقا فعليه الوفاء" لقوله عليه الصلاة والسلام: "من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى" "وإن علق النذر بشرط فوجد الشرط فعليه الوفاء بنفس النذر" لإطلاق الحديث ولأن المعلق بشرط كالمنجز عنده "وعن أبي حنيفة رحمه الله أنه رجع عنه وقال إذا قال إن فعلت كذا فعلي حجة أو صوم سنة أو صدقة ما أملكه أجزأه من ذلك كفارة يمين وهو قول محمد رحمه الله" ويخرج عن العهدة بالوفاء بما سمى أيضا وهذا إذا كان شرطا لا يريد كونه لأن فيه معنى اليمين وهو المنع وهو بظاهره نذر فيتخير ويميل إلى أي الجهتين شاء بخلاف ما إذا كان شرطا يريد كونه كقوله إن شفى الله مريضي لانعدام معنى اليمين فيه وهو المنع وهذا التفصيل هو الصحيح.

(کتاب الایمان،فصل فی الکفارۃ 2/321  ط دار احیاء التراث العربی)

دارالافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور کے فتاوی میں ہے:

واضح رہے کہ اگر  نذر کو ایسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائےکہ جس کا ہونا آدمی کو مطلوب ہو،تووہ فقط نذر ہوگی،اور اگر ایسی شرط ہو کہ جس کا واقع ہونا آدمی کو مطلوب نہ ہو بلکہ اس سے باز رہنا مقصود ہو،تو یہ ایک اعتبار سے نذر اور دوسرے اعتبار سے قسم ہوگی،  لہذا اگرچاہے تو نذر ادا کردے یا قسم کا کفارہ ادا کردے۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ کہ "اگر میں نے یہ گناہ دوبارہ کیا تو اتنی رقم صدقہ کروں گا"سے مقصود اپنےآپ کو گناہ سے باز رکھنا ہے ، لہذا اگر  بعد میں  وہ گناہ اس سے سر زد ہوجائےاوراتنی رقم نہ ہو کہ نذر ادا کرسکے،تو قسم کا کفارہ ادا کرنے سے بھی ذمہ فارغ ہوجائےگا۔

(گناہ سے بچنے کی نذر مان کر اس میں مبتلا ہونے کی صورت میں کفارہ قسم۔فتویٰ نمبر:

5773/297/328)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                      29ربیع الاول 1447ھ/23 ستمبر 2025 ء

                                               فتویٰ نمبر:479