فتوے
فجر کی نماز کے بعد قضا عمری ادا کرنے کا حکم
سوال
فجر کی نماز باجما عت ادا کر نے کے بعد فجر کے انتہائے وقت سے پہلےقضا ئے عمری کی نماز و نوا فل ادا کرنا درست ہے؟
جواب
فجر کی فرض نماز کے بعد اشراق کے وقت داخل ہونے سے پہلے نفل نماز پڑھنا منع ہے ،البتہ قضاء عمری اس وقت پڑھی جاسکتی ہیں ،لیکن بہتر یہ ہے کہ اس وقت قضا ء نمازاکیلے میں ایسی جگہ پڑھی جائے جہاں کوئی موجود نہ ہو ،تاکہ کسی کو یہ معلوم نہ ہوسکے کہ یہ قضاء نماز پڑھ رہا ہے ۔مجمع میں اس وقت قضا ء نماز پڑھنے کی صورت میں لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ قضا ء نماز ادا کررہا ہے کیونکہ اس وقت نفل نماز پڑھنا منع ہے ۔اور جس طرح گناہ کرنا برا ہے گناہ کی تشہیر(قضاء نماز کا لوگوں کو علم ہوجانا)سے شریعت نے منع کیا ہے۔
بخاری شریف میں ہے:
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ:
سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: (كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ الْمُجَاهَرَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا، ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ، فَيَقُولَ: يَا فُلَانُ، عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ).
(کتاب الاداب ،باب ستر المومن علیٰ نفسہ5/2254 رقم 5721 ط دار الیمامۃ،دمشق)
ترجمہ:حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری ساری امت کی معافی ہوجائے گی سوائے اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے،اور اعلانیہ گناہ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایک شخص نے رات کو چھپ کر گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال دیا لیکن وہ صبح اٹھ کر لوگوں کو بتاتا ہے کہ اے فلان میں نے گذشتہ رات کو فلاں فلاں گناہ کیا ،حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کردی تھی اور وہ اپنے گناہ خود ظاہر کرتا ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
تسعة أوقات يكره فيها النوافل وما في معناها لا الفرائض. هكذا في النهاية والكفاية فيجوز فيها قضاء الفائتة وصلاة الجنازة وسجدة التلاوة. كذا في فتاوى قاضي خان.۔۔۔۔۔۔۔ ومنها ما بعد صلاة الفجر قبل طلوع الشمس. هكذا في النهاية والكفاية
(کتاب الصلوۃ ،الباب الاول،الفصل الثالث 1/53 ط رشیدیہ)
فتاوی شامی میں ہے:
قَوْلُهُ وَيَنْبَغِي إلَخْ) تَقَدَّمَ فِي بَابِ الْأَذَانِ أَنَّهُ يُكْرَهُ قَضَاءُ الْفَائِتَةِ فِي الْمَسْجِدِ وَعَلَّلَهُ الشَّارِحُ بِمَا هُنَا مِنْ أَنَّ التَّأْخِيرَ مَعْصِيَةٌ فَلَا يُظْهِرُهَا. وَظَاهِرُهُ أَنَّ الْمَمْنُوعَ هُوَ الْقَضَاءُ مَعَ الِاطِّلَاعِ عَلَيْهِ، سَوَاءٌ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ أَوْ غَيْرِهِ كَمَا أَفَادَهُ فِي الْمِنَحِ.
قُلْت: وَالظَّاهِرُ أَنْ يَنْبَغِيَ هُنَا لِلْوُجُوبِ وَأَنَّ الْكَرَاهَةَ تَحْرِيمِيَّةٌ لِأَنَّ إظْهَارَ الْمَعْصِيَةِ مَعْصِيَةٌ لِحَدِيثِ الصَّحِيحَيْنِ «كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إلَّا الْمُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنْ الْجِهَارِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا ثُمَّ يُصْبِحُ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ فَيَقُولُ عَمِلْت الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ» وَاَللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
(کتاب الصلوۃ ،باب قضاء الفائت 2/77 ط سعید)
دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاویٰ میں ہے:
فجر کی نماز کے بعد طلوع سے پہلے اور عصر کی نماز کے بعد سورج زرد ہوجانے سے پہلے پہلے سابقہ قضا نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں، البتہ اگر ان اوقات میں قضا نماز پڑھنی ہو تو مسجد یا کسی عام جگہ کے بجائے گھر میں یا کسی اور تنہائی کے مقام میں ادا کی جائیں؛ کیوں کہ ان اوقات میں نوافل پڑھنا جائز نہیں، لہذا دیکھنے والے یہی سمجھیں گے کہ قضا نماز ادا کی جارہی ہے، جب کہ نماز کو قضا کرنا ایک گناہ ہے اور گناہ کا اظہار بھی شریعت میں پسندیدہ نہیں۔
(فجر وعصر کے بعد قضا نماز پڑھنے کا حکم،فتویٰ نمبر : 144203201441)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
11 رجب المرجب 1447ھ/یکم جنوری 2026ء
فتویٰ نمبر:513
