فتوے
اگر بیوی نے دوہزار روپے لئے تو اس کو تین طلاق
سوال
کیا فرماتے ہیں علما دین بیوی اور شوہر کی لڑائی میں اگر شوہر کہے دوہزار دو ورنہ تمھیں تین طلاق ہے اور بیوی ٹال مٹول کے بعد آخر کار بیگ سے نکال کر دینے ہی والی ہو کہ ہاتھ سے چھین کر شوہر لے لے۔پھر کہے اگر بیوی نے یہ لیے یا میں نے دے دیئے تو بھی تین طلاق۔اس کے بعد بیوی کوشش کرے لینے کی مگر شوہر نہ دے ۔پھر دوسرے دن شوہر وہی پیسے میں 100 مزید ملا کر بیوی کے آگے رکھے کہ اٹھالو ہاتھ میں نہ دے لیکن بیوی نہ اٹھائے کہے یہ تو وہی ہیں ۔پھر شوہر اپنے بٹوے سے اپنے دوہزار نکال کر دے کہ مجھے پتہ نہیں چلا چلو اب یہ دوہزار ایک سو رکھ لو لیکن بیوی وہ نہ لے اور کہے کہ بس بچون کو دیں اور شوہر کہے ٹھیک ہے ان کو بازار سے کچھ لے کر دے دینا جب جانا۔اور بیوی پیسے واپس بچوں کو دے۔ ہزار تمھارے ہزار تمھارے ۔اور بچے لے لیں بعد میں بچے ماں کے پاس رکھوالیں۔ تو کیا طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں؟
جواب
صورت مسؤلہ میں شوہر نے بیوی سے دو ہزار روپے کا مطالبہ کیا اور نہ دینے پر طلاق دینے کا کہا ،ابتداءً بیوی نے دینے سے ٹال مٹول کیا پھر شوہر نے اس سے وہ رقم چھین لی اور یہ جملہ کہا کہ "اگر بیوی نے یہ(دو ہزار روپے)لئے یا میں نے دے دئیے تو بھی تین طلاق" اس کے بعد شوہر نے اگلے دن اسی دو ہزار روپے کے ساتھ کچھ اضافی پیسے ملاکر بیوی کو دینا چاہا لیکن بیوی نے یہ کہ کر نہیں لئےکہ یہ وہی پیسے ہیں جس پر طلاق معلق کی گی تھی ،پھر شوہر نے اپنے بٹوے سے الگ سے دوہزار روپے دئے، بیوی نے وہ بھی نہیں لئے پھر شوہر نے وہ رقم بچوں کو دے دی اور بچوں نے اپنی ماں کے پاس وہ رقم جمع کروادی تو ایسی صورت میں بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،اور آئندہ اگر بیوی اپنے شوہرسے اس متعینہ دوہزار روپے کے علاوہ کوئی رقم وصول کرلیتی ہے تو اس سے بھی طلاق واقع نہ ہوگی،لیکن شوہر کو اس طرح کے جملہ کہنے سے احتیاط کرنا چاہئے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وَإِذَا أَضَافَهُ إلَى الشَّرْطِ وَقَعَ عَقِيبَ الشَّرْطِ اتِّفَاقًا مِثْلُ أَنْ يَقُولَ لِامْرَأَتِهِ: إنْ دَخَلْتُ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَلَا تَصِحُّ إضَافَةُ الطَّلَاقِ إلَّا أَنْ يَكُونَ الْحَالِفُ مَالِكًا أَوْ يُضِيفَهُ إلَى مِلْكٍ وَالْإِضَافَةُ إلَى سَبَبِ الْمِلْكِ كَالتَّزَوُّجِ كَالْإِضَافَةِ إلَى الْمِلْكِ
(کتاب الطلاق،الباب الرابع فی الطلاق بالشرط 1/420 ط سعید)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
9 رجب المرجب 1447ھ/30 دسمبر 2025 ء
فتویٰ نمبر:512
