فتوے
تنظیم فکر شاہ ولی اللّہی کا حکم
سوال
فکرے شاہ ولی اللہ کیا ہے ؟ان کے ساتھ میل جول رکھنا اور ان کی تقاریب میں شرکت کرنا کیسا ہے ؟ تفصیل سےاگاہ فرمائے شکریہ
جواب
تنظیم فکر شاہ ولی اللّہی کے بارے میں ہمارے اکابر نے کو کچھ تحریر کیا ہے اس کو ذکر کیا جاتا ہے:
فتاویٰ بینات میں ہے:
ا س لئے "تنظیم فکر ولی اللّہی "سے وابستگان اپنے افکار ونظریات کی رو سے اہل سنت والجماعت کی بجائے ایک نوخیز نو ایجاد گروہ ہے ان کا طرز عمل علماء حق علماء دیوبند کے طریقہ کار سے میل نہیں کھاتا،اس لئے علماء دیوبند کے پیروکاروں کے لئے اس تنظیم میں شامل ہونا ناجائز ہے ،اس تنظیم کے بزرگوں کو اپنا بزرگ سمجھنا ان کی بھول ہے،اس تنظیم کی طرف دعوت دینا علماء دیوبند اور اہل سنت سے بغاوت ہے،اس نو ایجاد (مبتدع) گروہ سے تعلق رکھنے والے شخص کی اقتدا میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے ،ایسا شخص اگر مذکورہ تنظیم سے براءت وبیزاری کا اظہار نہ کرے تو منصب امامت کے اعزاز کا مستحق نہیں۔
(کتاب العقائد ،1/466 ط مکتبہ بینات)
دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاویٰ میں ہے:
تنظیم "فکرِشاہ ولی اللہی" سے منسلک افرادجنت دوزخ،عقیدہ شفاعت،آبِ کوثر،حیاتِ عیسی علیہ السلام اورظہورِ مہدی علیہ الرضوان وغیرہ سے متعلق اہلِ سنت والجماعت کے نظریات سے ہٹ کرجداعقائدونظریات رکھتے ہیں؛ لہذا یہ تنظیم اوراس سے وابستہ افراداپنے مخصوص خیالات ونظریات،تعبیرات واصطلاحات کی بنا پراہلِ حق علماء اوراہلِ سنت والجماعت سے جدا ہیں؛ لہذا اس تنظیم میں شمولیت یااس کے عقائد ونظریات کواپنانا اہلِ سنت، اہلِ حق کے راستہ سے انحراف ہے۔اور ایسے عقائد ونظریات کے حامل افراد کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، جب تک کہ وہ مذکورہ تنظیم اور اس کے عقائد ونظریات سے برات وبیزاری کا اظہار نہ کریں ۔
(فکرِ شاہ ولی اللہ نامی تنظیم کے افکار کے حامل افرادکےپیچھےنماز پڑھناجائز ہے یا نہیں؟ فتویٰ نمبر : 144001200206)
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی کے فتاوی میں ہے:
سؤال:کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ تحریک شاہ ولی اﷲ اور تحریک کے قائد مولانا سعید احمد رائے پوری کے بارے میں وضاحت فرمائیں، نیز ان کی تنظیم میں شامل ہونا اور ان کی تائید کرنا کیسا ہے۔
جواب: یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلام کو آج تک کفار نے میدان جنگ میں مقابلے میں آکر اتنا نقصان نہیں پہنچایا، جتنا کہ انہوں نے منافقت کی چادر اوڑھ کر اسلام کے نام سے اسلام کو نقصان پہنچایا ہے، ہر دور اور ہر زمانے میں اسلام کے لباس میں ننگ دین وننگ ملت لوگ اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، قرون اولیٰ سے سے یہ لوگ مختلف اوقات میں نئے نئے اور خوش کن ناموں سے سادہ لوح عوام کو اپنے جال میں پھانستےرہے ہیں او راپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے بزرگ ہستیوں سے اپنا تعلق جوڑنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، جب کہ حقیقت میں ان بزرگان دین سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا،مسند ہند، حضرت شاہ ولی اﷲؒ ایک عالم گیر شخصیت کے مالک تھے، دین کی خدمت او رتبلیغ کے سلسلے میں عالم اسلام پر عموماً اور برصغیر کے مسلمانوں پر خصوصاً حضرت شاہ صاحب او ران کے خاندان کے احسانات ایک ناقابل انکار حقیقت ہی، اس لیے برصغیر کا ہر مسلمان ( اگر اسے دین سے ادنیٰ تعلق بھی ہو تو ) حضرت شاہ صاحب کا نام نہایت ادب واحترام سے لیتا ہے، اسی طرح حضرت مولانا عبیداﷲسندھی صاحب کا تعلق بھی ان اکابرین سے ہے جن کی انتہائی کوشش سے انگریز برصغیر چھوڑنے پر مجبور ہوا۔
سوال میں مذکور جماعت ”تحریک فکر شاہ ولی اﷲ” اپنے آپ کوحضرت شاہ صاحب اور مولانا سندھی صاحب ؒ کے سیاسی افکار کی امین سمجھتی ہے، جب کہ ان بزرگان دین کا ان کے وضع کردہ افکار سے دور کا بھی واسطہ نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی گمراہ کن جماعت ہے، یہ لوگ اپنا نظریہ اورمنشور عام لٹریچروں اورمجلسوں میں بیان نہیں کرتے، بلکہ مختلف پروگراموں کے ذریعہ تدریجاً اپنے کارکنوں کے ذہن میں منتقل کرتے رہتے ہیں ، چنانچہ کچھ عرصے بعد اس تنظیم سے منسلک ہونے والا آخر کار دھریت کے قریب، یا بالکل دھریہ بن جاتا ہے۔ ذیل میں ہم ان کے چند باطل نظریات ذکر کرتے ہیں:
١۔بغیر اسباب کے اﷲ تعالیٰ کسی کام کے کرنے پر قادر نہیں ٢۔ نماز کا درجہ صرف ”سبحان اﷲ” کہنے کی طرح ہے، نماز نہ پڑھنے پر گناہ نہیں ٣۔ امام مہدی کا تصور مردہ قوموں کا تخیل ہے ٤۔ جنت ودوزخ من گھڑت خیالات ہیں ٥۔ کمیونزم عین اسلام ہے ٦۔قتال کرنا قطعاجائز نہیں ٧۔ صحابہؓ معیار حق نہیں ٨۔ خلافت کے بغیر ایمان واعمال بے کار ہیں ٩۔سود جائز ہے ١٠۔ داڑھی کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے ١١۔ موجودہ دور میں حدود ظلم ہیں ١٢۔ علما ء معاشرے پر بوجھ ہیں انہیں قتل کرنا ضروری ہے۔
لہٰذا ایسی باطل تنظیم سے کسی کا تعلق رکھنا جائز نہیں ، بلکہ اس کے فتنے کو ختم کرنے کے لیے مقدور بھر کوشش کرنا ضروری ہے۔
(دارالافتاء جامعہ فاروقیہ : تنظیم فکر شاہ ولی ﷲ کے افکار و نظریات)
فتاوی بینات( جلد 1کتاب العقائدصفحہ 450تا 466 ط مکتبہ بینات) میں اس تنظیم سے متعلق تفصیلی فتوی موجود ہے،اس فتوی میں ان کے افکار اور نظریات کو با حوالہ ذکر گیا ہے،اس فتوی میں سے ان کے بعض افکار ونظریات ذیل میں ذکر کئے جاتے ہیں:
1۔قرآن کریم کےبارے میں عقیدہ کہ بے سوچے وسمجھے قرآن پڑھنا شرک وبت پرستی ہے:
"میں یہ بات برملا طور پر نہیں کہا کرتا ،لیکن میرا یہ عقیدہ ہے کہ جو شخص قرآن کو سمجھے بغیر پڑھتا ہے اور یہ مانتا ہے کہ اس طرح پڑھنے سے اسے ثواب حاصل ہوگا ،وہ بت پرستوں سے کم نہیں ،ایک نے بت کو خدا بنالیا اور ایک نے کتاب کو خدا مانا ،بت بھی ساکتاور جامد ہے ،اسی طرح یہ کتاب بھی۔اس کے لئے ایک بت ہی ہے،کیونکہ وہ اسے سمجھتا نہیں اور بغیر سمجھے اس کو پڑھتا ہے ،اب تم ہندؤں کو بت پرست کہتے ہو اور اپنی طرف دیکھتے نہیں ،حالانکہ بت پرستی میں تم اور وہ یکساں ہو،قرآن تفکر وتدبر کے لئے اترا ہے۔
(فتاویٰ بینات ،کتاب العقائد1/452 ط مکتبہ بینات)
مذکورہ نظریہ میں قرآن شریف کو بغیر تفکر وتدبر پڑھنے کو ہندوانہ بت پرستی کی مانند قرار دیا گیا ہے،حالانکہ یہ صریح حدیث شریف کی مخالفت ہے ،حدیث میں بلاسمجھے قرآن کریم پڑھنے کو بھی باعث اجر کہا گیا ہے۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: " مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا لَا أَقُولُ: آلم حَرْفٌ. أَلْفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
(مشکوۃ المصابیح،کتاب فضائل القرآن،الفصل الثانی1/659 رقم الحدیث 2137 ط المکتب الاسلامی)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اس کو ایک نیکی ملی گی اور ایک نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر ملے گا ،میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے،لام الگ حرف ہے اور میم الگ حرف ہے (اس اعتبار سے صرف الم پڑھنے پر تیس نیکیاں اور یہ تیس نیکیاں ثواب کے اعتبار سے دس گنا زیادہ اجر کا باعث بنے گیں)
2۔جنت ودوزخ دائمی نہیں ہے:
"مسلمانوں کے دلوں میں یہ خیال راسخ کیا گیا کہ جنت میں جنتی اور دوزخ میں دوزخی ہمیشہ رہیں گے،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی حکیم اس بات کو برداشت نہیں کرسکتا"
(فتاویٰ بینات ،کتاب العقائد 1/453 ط مکتبہ بینات)
جنتی جنت میں ہمیشہ رہیں گیں اور دوزخی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گیں یہ عقیدہ قرآن کریم کی متعدد آیات مبارکہ سے ثابت ہے:
وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتِ وَٱلۡكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ هِيَ حَسۡبُهُمۡۚ وَلَعَنَهُمُ ٱللَّهُۖ وَلَهُمۡ عَذَاب مُّقِيم (توبہ 68)
ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور (اعلانیہ) کفر کرنے والوں سے دوزخ کی آگ کا عہد کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گیں اور ان کے لئے یہ سزا کافی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے دور کردے گا اور ان کو عذاب دائمی ہوگا۔(بیان القرآن)
وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةٗ فِي جَنَّٰتِ عَدۡنٖۚ وَرِضۡوَٰن مِّنَ ٱللَّهِ أَكۡبَرُۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ(توبہ 72)
ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ کررکھا ہے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہوگی جن میں وہ ہمیشہ رہیں اور نفیس مکانوں کا جو کہ ان ہمیشگی کے باغوں میں ہوں گے اور ان سب نعمتوں کےساتھ اللہ تعالیٰ کی رضامندی سب نعمتوں سے بڑی چیز ہے یہ (جزائے مذکور)بڑی کامیابی ہے۔(بیان القرآن)
3 ۔حیات عیسیٰ علیہ السلام ،یہودی اور صابی من گھڑت کہانی ہے:
"یہ جو حیات عیسیٰ علیہ السلام لوگوں میں مشہور ہے یہ یہودی کہانی ،نیز صابی من گھڑت کہانی ہے ،مسلمانوں میں فتنہ عثمان کے بعد بواسطہ انصار بنی ہاشم یہ بات پھیلی اور یہ یہودی اور صابی تھے۔"
"مہدی کے ورود اورعیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ نہ تو اسلامی ہے اور نہ محققین کا ،مثلاً صاحب مواقف وغیرہ کی کتب میں ان کا تذکرہ ہوا۔"
(فتاویٰ بینات ،کتاب العقائد 1/465 ط مکتبہ بینات)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول کا عقیدہ قرآن پاک کی آیات اور متعدد احادیث مبارکہ سے ثابت ہے:
وَقَوۡلِهِمۡ إِنَّا قَتَلۡنَا ٱلۡمَسِيحَ عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمۡۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُۚ مَا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٍ إِلَّا ٱتِّبَاعَ ٱلظَّنِّۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَۢا 157 بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيۡهِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمٗا 158 وَإِن مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ إِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهِۦ قَبۡلَ مَوۡتِهِۦۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكُونُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيدٗا(سورۃ النساء آیت 157،158)
ترجمہ:ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو جو کہ رسول ہیں اللہ تعالیٰ کے قتل کردیا حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا لیکن ان کو اشتباہ ہوگیا اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں ہیں ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھالیا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست حکمت والے ہیں اور کوئی شخص اہل کتاب سے نہیں رہتا مگر و ہ عیسیٰ علیہ السلام کی اپنے مرنے سے پہلے ضرور تصدیق کرلیتا اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دیں گے(بیان القرآن)
مسلم شریف میں ایک طویل حدیث جس میں دجال کے خروج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور حیات کا ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے ،اس حدیث میں صراحت ہے کہ جب مسلمان حضرت مہدی علیہ الرضوان کے ساتھ دجال کے خلاف جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہوں گے تو اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمانوں سے اترتے ہوئے نظر آئیں گیں ،سر نیچے کریں گےتو پانی کے قطرے گریں گے ،سر اونچا کریں گے تو چمکدار موتیوں کی طرح دانے گریں گے ،دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی جانب کے سفید رنگ کے مینارے پر اتریں گے۔تفصیلی حدیث ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
عن النواس بن سمعان، قَالَ:
ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة. فخفض فيه ورفع. حتى ظنناه في طائفة النخل. فلما رحنا إليه عرف ذلك فينا. فقال "ما شأنكم؟ " قلنا: يا رسول الله! ذكرت الدجال غداة. فخفضت فيه ورفعت. حتى ظنناه في طائفة النخل. فقال "غير الدجال أخوفني عليكم. إن يخرج، وأنا فيكم، فأنا حجيجه دونكم. وإن يخرج، ولست فيكم، فامرؤ حجيج نفسه. والله خليفتي على كل مسلم.
إنه شاب قطط. عينه طافئة. كأني أشبهه بعبد العُزَّى بن قطن. فمن أدركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف. إنه خارج خلة بين الشام والعراق. فعاث يمينا وعاث شمالا. يا عباد الله! فاثبتوا" قلنا: يا رسول الله! وما لبثه في الأرض؟ قال "أربعون يوما. يوم كسنة. ويوم كشهر. ويوم كجمعة. وسائر أيامه كأيامكم" قلنا: يا رسول الله! فذلك اليوم الذي كسنة، أتكفينا فيه صلاة يوم؟ قال "لا. اقدروا له قدره" قلنا: يا رسول الله! وما إسراعه في الأرض؟ قال "كالغيث استدبرته الريح. فيأتي على القوم فيدعوهم، فيؤمنون به ويستجيبون له. فيأمر السماء فتمطر. والأرض فتنبت. فتروح عليهم سارحتهم، أطول ما كانت ذرا، وأسبغه ضروعا، وأمده خواصر. ثم يأتي القوم. فيدعوهم فيردون عليه قوله. فينصرف عنهم. فيصبحون ممحلين
ليس بأيديهم شيء من أموالهم. ويمر بالخربة فيقول لها: أخرجي كنوزك. فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل. ثم يدعو رجلا ممتلئا شبابا. فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه. يضحك. فبينما هو كذلك إذ بعث الله المسيح ابن مريم. فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق. بين مهرودتين. واضعا كفيه على أجنحة ملكين. إذا طأطأ رأسه قطر. وإذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤلؤ. فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه إلا مات. ونفسه ينتهي حيث ينتهي طرفه. فيطلبه حتى يدركه بباب لد. فيقتله. ثم يأتي عيسى ابن مريم قوم قد عصمهم الله منه. فيمسح عن وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم في الجنة. فبينما هو كذلك إذ أوحى الله إلى عيسى: إني قد أخرجت عبادا لي، لا يدان لأحد بقتالهم. فحرز عبادي إلى الطور.
ويبعث الله يأجوج ومأجوج. وهم من كل حدب ينسلون. فيمر أوائلهم على بحيرة طبرية. فيشربون ما فيها. ويمر آخرهم فيقولون: لقد كان بهذه، مرة، ماء. ويحصر نبي الله عيسى وأصحابه. حتى يكون رأس الثور لأحدهم خيرا من مائة دينار لأحدكم اليوم. فيرغب نبي الله عيسى وأصحابه. فيرسل الله عليهم النغف في رقابهم. فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة. ثم يهبط نبي الله عيسى وأصحابه إلى الأرض. فلا يجدون في الأرض موضع شبر إلا ملأه زهمهم ونتنهم. فيرغب نبي الله عيسى وأصحابه إلى الله. فيرسل الله طيرا كأعناق البخت. فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله. ثم يرسل الله مطرا لا يكن منه بيت مدر ولا وبر. فيغسل الأرض حتى يتركها كالزلفة. ثم يقال للأرض: أنبتي ثمرك، وردي بركتك. فيومئذ تأكل العصابة من الرمانة.
ويستظلون بقحفها. ويبارك في الرسل. حتى أن اللقحة من الإبل لتكفي الفئام من الناس. واللقحة من البقر لتكفي القبيلة من الناس. واللقحة من الغنم لتكفي الفخذ من الناس. فبينما هم كذلك إذ بعث الله ريحا طيبة. فتأخذهم تحت آباطهم. فتقبض روح كل مؤمن وكل مسلم. ويبقى شرار الناس، يتهارجون فيها تهارج الحمر، فعليهم تقوم الساعة".
(صحیح مسلم کتاب الفتن وا شراط الساعۃ 4/2250 رقم 2937 ط دار احیاء التراث العربی)
محدث العصر حضرت مولانا سید یوسف بنوری ؒ "عقیدہ نزول مسیح "میں لکھتے ہیں:
اب غور کیجئے کہ کتب حدیث میں جو امہات واصول ہیں مثلاً بخاری،مسلم،سنن نسائی ،ابی داؤد ،ترمذی،ابن ماجہ سے لے کر مستدرک حاکم وسنن کبریٰ بیہقی تک بیسیوں کتابوں میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے مستقل ابواب موجود ہیں ،سب ہی نزول کی احادیث روایت کرتے ہیں اور نفس نزول میں اسنادی اعتبار سے کوئی علت قادحہ نہیں بیان کرتے،پھر ان ہی کتب حدیث وکتب تفسیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم سے پھر تابعین سے اور تابعین بھی مختلف بلاد کے مدینہ،مکہ ،بصرہ ،کوفہ ،شام وغیرہ کے سب سے نزول مسیح کے بارے میں نقول موجود ہیں پھر کسی صحابی ،کسی تابعی سے نہیں ،بلکہ کسی امام دین ،کسی محدث،کسی مصنف سے بھی اس کا خلاف کسی کتاب میں کسی دور میں،کہیں بھی کوئی حرف نقل نہیں ہوا ،کیا یہ اس کی دلیل نہیں کہ یہ بات اور عقیدہ بالکل اجماعی واتفاقی ہے پھر کتب عقائد میں جو مستند ترین اور اعلیٰ ترین کتب عقیدہ ہیں ان سب میں اس کا ذکر عقیدہ کی صورت میں موجود ہے اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوگی؟۔۔۔۔۔امام ابو اسحاق کلا آبادی بخاری جو قرن رابع کے اکابر حفاظ محدثین سے ہیں اور اپنی اسناد سے روایت حدیث کرتے ہیں ،اپنی کتاب "معانی الاخبار"میں فرماتے ہیں:
قد اجمع اہل الاثر وکثیر من اہل النظر علیٰ ان عیسیٰ علیہ السلام ینزل من السماء فیقتل الدجال ویکسر الصلیب (تحیۃ الاسلام ص 135)
ترجمہ:کل محدثین اور بہت سے متکلمین کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے،دجال کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے۔۔۔۔۔۔۔بہر حال یہ تو ہوئی نقل اجماع کے بارے میں قدماء محدثین کی تصریح ،اب متاخرین اہلحدیث میں سے امام شمس الدین محمد بن احمد حنبلی سفارینی نابلسی کی عبارت ملاحظہ ہو:
واما الاجماع فقد اجتمعت الامۃ علیٰ نزولہ ولم یخالف فیہ احد من اھل الشریعۃ وانما انکر ذالک الفلاسۃ والملاحدۃ مما لایعتد بخلافہ وقد انعقد اجماع الامۃ علیٰ انہ ینزل ویحکم بھذہ الشریعۃ المحمدیۃ( شرح عقیدہ سفارینی 2/90)
ترجمہ:رہا نزول عیسیٰ علیہ السلام میں اجماع تو امت محمدیہ کے کل اہل علم کا اجماع ہے کہ وہ نازل ہوں گے،اور شرع محمدی پر عمل کریں گے ،بجز فلاسفہ اور ملاحدہ کے کسی نے خلاف نہیں کیا اور ان کا خلاف قابل اعتبار نہیں۔
( عقیدہ نزول مسیح 80 تا 83 ط مکتبہ بینات)
اسی طرح حضرت امام مہدی علیہ الرضوان سے متعلق بھی متعد د احادیث مبارکہ موجود ہیں کہ وہ ظاہر ہوں گے،ان کی علامات ،حسب نسب سب کچھ احادیث مبارکہ میں تفصیل سے موجود ہے۔
عن عبدِ الله، عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم قال: "لو لم يبقَ من الدُّنيا إلا يومٌ -قال زائدة في حديثه- لطوَّل الله ذلك اليومَ -ثم اتفقوا- حتى يبعثَ اللهُ فيه رجُلاً مني أو من أهلِ بيتي، يواطئُ اسمُه اسمي، واسمُ أبيه اسمَ أبي -زاد في حديث فطر- يَملأ الأرضَ قِسطاً وعَدلاً، كما مُلِئَت ظلماً وجَوْراً". وقال في حديث سفيان: "لا تذهب -أو لا تنقضي- الدُنيا حتى يملك العربَ رجلٌ من أهل بيتي، يواطئُ اسمُه اسمي
(سنن ابی داؤد ،کتاب المہدی6/337 رقم4282 ط الرسالۃ العالمیۃ)
ترجمہ:حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہےکہ اگر دنیا ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی ہو تو اللہ تعالیٰ اس دن کو طویل کردیں گے یہاں تک کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ ایک شخص کو میرے خاندان سے پیدا کریں گے جس کا نا م میرے نام کی طرح ہوگا اور اس کے باپ کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ زمین ظلم اور ستم سے بھری ہوئی ہوگی۔
حیات اور نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام،اور حضرت امام مہدی پر علماء کرام نے متعدد کتب تحریر فرمائیں ہیں ،جن میں چند کتابیں ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں ، مزید تفصیل کے لئے ان کتب کی طرف مراجعت فرمائیں:
1۔التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ( مولفہ:محدث العصر شیخ الاسلام حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ )
2۔عقیدۃ الاسلام ( مولفہ:محدث العصر شیخ الاسلام حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ )
3۔تحیۃ الاسلام،یہ کتاب دراصل عقیدہ الاسلام کا حاشیہ اور تعلیقات ہیں جس کا اضافہ مؤلف گرامی نے بعد میں کیا اور ان کا نام تحیہ الاسلام رکھا۔ ( مولفہ:محدث العصر شیخ الاسلام حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ )
4۔عقیدہ نزول میسح علیہ السلام قرآن وحدیث اور اجماع امت کی روشنی میں (مولفہ:محدث العصرحضرت مولانا سید یوسف بنوری ؒ)
5۔عقائد اہل سنت والجماعت(مولفہ:مفتی طاہر مسعود صاحب)
6۔عقیدہ ظہور مہدی احادیث کی روشنی میں(مفتی نظام الدین شامزیؒ)
7۔-ترجمان السنۃ از مولانا بدر عالم صاحب میرٹھیؒ، جلد چہارم، ص:346 تا 375،ط:مکتبہ رحمانیہ لاہور۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
10جمادی الثانیہ 1447ھ/2 دسمبر 2025 ء
فتویٰ نمبر:500
