مدرسہ عارف العلوم
فتوے
بکری یا دنبی کے ایک سال سے کم عمر بچوں پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں
سوال
بکریوں اور دنبہ کا نصاب زکوۃ 40 عدد جو ایک سال یا اس سے زائد ہوں پر ایک بکری یا دنبہ واجب ہوتی ہے،اب سؤال یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس اگر 30 عدد بکریاں یا دنبہ ایک سالہ ہوں اور 10 عدد دنبہ یا بکریاں ایک سال سے کم ہوں تو ان چھوٹوں کو بڑوں کےساتھ ملا کر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟کیونکہ زکوۃ واجب ہونے کے لئے حولان حول اور سائمہ ہونا شرط ہے ،اور بچوں پر حولان حول نہیں ہوا۔
جواب
تفصیلات دیکھیں
ناسمجھ قریب البلوغ بچے کا اپنی والدہ کے ساتھ سونا ا ور والدہ کا اس کو استنجاء اور غسل کرانے کا حکم
سوال
: میرا بیٹا 14 سال کا ہے اور ایک نفسیاتی مسئلہ کا بچپن سے شکار ہے۔ ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق اس نفسیاتی مسئلے کو آٹزم (Autism) کہتے ہیں۔ اس کو یہ مسئلہ شدید نوعیت کا ہے گو کہ کچھ بچے اس سے بھی زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس مسئلہ کی وجہ سے اس کی ذہنی نشوونما عمر کے لحاظ سے کافی پیچھے ہے۔ جسمانی طور پر 14 سال کا ہونے کے باوجود اس کی ذہنی عمر 8 سال کی ہے۔ اسی نفسیاتی مسئلہ کی وجہ سے عثمان کو ہر چیز اپنی سمجھ کے مطابق چاہیے ہوتی ہے اور جو کام ایک طرح سے کر لے وہ ہر روز اسی وقت پر اسی طرح کرنا چاہتا ہے، کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، یہاں تک کہ صابن کے استعمال میں اس کو صرف اپنی سمجھ کی چیز چاہیے جو نہ ملنے پر وہ شدید پریشانی اور غصے کا شکار ہوتا ہے اور مارنے پیٹنے، توڑ پھوڑ کرنے، اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانے تک چلا جاتا ہے۔ کئی موبائل فون، کئی ٹی وی، کئی کمپیوٹر، کئی دروازے، اور بہت کچھ اس کے غصے کی زد میں آچکے ہیں۔ اسی نفسیاتی کیفیت یا بیماری کی وجہ سے اس کے جسم کے کچھ حصے، خاص طور پر ہاتھ کی انگلیاں ٹھیک طرح گرفت اور قوت نہیں رکھتیں اور وہ باریک چیزیں مشکل سے پکڑتا ہے اور جہاں بھی ہاتھ کا استعمال درکار ہو وہاں اسے مشکل ہوتی ہے، اپنی طہارت کے لئے بھی وہ ماں پر انحصار کرتا ہے۔ خود سے وہ اپنے آپ کو صاف نہیں رکھ پاتا۔ گو کہ کوشش کرتا ہے اور ہم اس سے کروا بھی رہے ہیں۔ بولنے میں مشکل کے باعث بھی بہت بے چین اور غصیلہ رہتا ہے۔ اچھے اور برے کی تمیز بھی نہیں کر پاتا۔ شرم و حیا کی بھی سمجھ اور احساس نہیں ہے۔ یہ تمام عادات دراصل اسی نفسیاتی مسئلے کی علامات ہیں۔ اس کو دوا کے ذریعے پرسکون رکھنا پڑتا ہے۔ بہرحال اللہ کا شکر ہے کہ بہت سی اور علامات اس میں نہیں ہیں، جیسے بالکل ہی بات کرنے کے قابل نہ ہونا۔
اب سؤال یہ ہے کہ اس کی والدہ کا ایسے بچے کا استنجاء کرانا اور اس کو نہلانا اور غسل دینا کا شرعی حکم کیا ہے؟کیونکہ یہ امور وہ والدہ کے بغیر نہیں کرتا ،اور اسی طرح یہ رات کو اپنی والدہ کے ساتھ سوتا ہے اور ان کے بغیر یہ آرام نہیں کرتا تو اس کا اپنی والدہ کے ساتھ سونا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ ۔
جواب
تفصیلات دیکھیں
موٹیوشنل گانے لکھنے اور گانے کا حکم
سوال
محترم مفتی صاحب! میرا نام محمد اویس ہے۔ میری عمر 16 سال ہے۔ میں ایک سوال اللہ کی رضا جاننے کے لیے پوچھ رہا ہوں، بحث کرنے کے لیے نہیں۔ میری خواہش ہے کہ میں صرف ایسے موٹیویشنل گانے لکھوں اور گاؤں جن میں کوئی گالی، فحاشی، شرک، کفر یا گناہ کی دعوت نہ ہو۔ میرا مقصد لوگوں کو محنت، امید، والدین کی عزت، اچھے اخلاق اور اللہ پر بھروسہ کی طرف راغب کرنا ہے، نہ کہ لوگوں کو دین سے دور کرنا۔ میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کوئی ایسا کام کر بیٹھوں جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہ ہو۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس مقصد کے ساتھ ایسے گانے لکھنا اور گانا جائز ہے یا نہیں؟ جزاکم اللہ خیراً؟
جواب
تفصیلات دیکھیں
حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سے شادی کرنے کا حکم
سوال
میرے بڑے بھائی کو ایک عورت نے دودھ پلایا تھا ،اور میں اس عورت کی بیٹی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں ۔تو کیا میں یہ شادی کرسکتا ہوں؟
جواب
تفصیلات دیکھیں
میں تم کو زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا،مجھ پر حرام ہے اگر میں تم کوہاتھ لگاؤں،متعدد بار الفاظ ایلاء کہنے کا حکم
سوال
بیوی کا بیان
سؤال: میرا نام کرن ریحان اور میرے شوہر کا نام ریحان خان ہے مسئلہ یہ ہے کہ 13 سال پہلے ایک گھریلو جھگڑے میں میرے شوہر نے مجھے ایک ساتھ دو طلاقیں دی تھیں ،دو دفعہ میرے شوہر نے بولا تھا میں تم کو طلاق دیتا ہوں اس وقت اس کمرے میں میری ساس نجمہ خاتون ،میری نند روزینہ،اور ایک اور نند نازیہ اور میری نند کا شوہر ارشد میرے شوہر موجود تھے اور میری نند کے شوہر نے میرے شوہر کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا دو طلاق کہنے کے بعد اس واقعے کے بعد میرا میرے شوہر کے ساتھ رجوع ہوگیا تھا ،اس کے بعد 2023 میں ہم امریکہ آگئے ،ملک سے دوری سے میرے شوہر انزائٹی میں تھے،اور ہم ایک روم میں 2 بچے اور ہم میاں بیوی ساتھ تھے ،ایک روم کی وجہ سے رجوع میں بھی مسئلہ تھا لیکن بچے روم میں نہیں ہوتے تو بہت کم رجوع ہوتا تھا،شوہر نے مجھے غصے میں تین چار دفعہ الگ الگ وقت میں بولا کہ میں تم کو زندگی بھر یاتھ نہیں لگاؤں گا ، میں میرے شوہر نے مجھے بولا کہ"میں قسم کھاتا ہوں زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا "،پھر کسی اور دن بولا" ہوش وحواس میں بولتا ہوں تم سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے،زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا"ایسا دو تین بار بولا ،پھر کسی اور دن غصے میں بولا "میں تم کو زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا،مجھ پر حرام ہے اگر میں تم کو ہاتھ لگاؤں"۔اس بات کی گواہ صرف میں ہوں اور مجھے اچھی طرح بات یاد ہے کہ ایسا بولا تھا مجھے ۔میرے شوہر کو یاد نہیں کہ کیا ہوا تھا 13 سال پہلے بھی ان کو طلاق کا لفظ ٹھیک سے یاد نہیں آرہے اور نہ ان کو 2023 کی کوئی بات یاد آرہی ہے ،میرے شوہر کا کہنا ہے اگر ان سے کچھ بولا ہے تو ان کا مقصد طلاق نہیں تھا اور پھر شوہر قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا کر بولا ہے مجھے ان کا مقصد طلاق یا کچھ اور نہیں تھا لیکن ان کو یاد نہیں آرہا ہے کہ بولا کیا تھا میرے شوہر کو کچھ یاد نہیں کیونکہ یہ دو سال پہلے ہوا تھا ان کا کہنا ہے کہ ان کی نیت میں کچھ غلط نہیں تھا،برائے مہربانی میری اور میرے شوہر کی راہنمائی کی جائے۔
وضاحت: شوہر نے جب یہ بات کہی اس کے ایک ماہ بعد پھر ہمبستری ہوئی تھی۔
شوہر کا بیان
میرا نام ریحان خان ہے اور بیوی کا نام کرن ریحان ہے گذارش یہ ہے کہ 13 سال پہلے گھر میں ایک گھریلو جھگڑا ہوا جس میں دو طلاق کا لفظ آیا ،لیکن مجھے یاد نہیں کہ طلاق دی یا دے دوں گا کا لفظ کہا تھا ،جھگڑا ختم ہوا اور ہم نے فورا رجوع کرلیا اور سب صحیح چلتا رہا 2023 میں ہم لوگ امریکہ آگئے جہاں پر ہم ایک کمرے میں رہتے تھے تو رجوع میں مشکلات تھیں بچوں کی وجہ سے اور ایک دن میں نے بولا کہ میں ہاتھ نہیں لگاؤں گا بیوی کو لیکن حرام کے الفاظ بولا تھا یا نہیں بولا تھا مجھے یاد نہیں ہے لیکن میری ایسی کوئی نیت نہیں تھی جس سے طلاق کا شبہ ہوا ،میں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر اللہ کو حاضر ناظر جان کر بولا ہے کہ ایسی کوئی نیت نہیں تھی اور ہے اور ہم رجوع میں رہے ہیں اس بات کے بعد بھی اور ابھی تک ۔
لہذا راہنمائی فرمائیں اور ہمیں اس معاملہ کا حل بتائیں اور کفارہ بتائیں۔
جواب
تفصیلات دیکھیں
موھوبہ مکان میں رہائش رکھتے ہوئے گھر کا ایک حصہ اپنی بیٹی اور دوسرا حصہ اہلیہ کو ہدیہ کرنے کا حکم
سوال
:بعد از سلام عرض خدمت ہے کہ ہمارے والدصاحب کی ایک جگہ رہائشی مکان جو کہ لاڑکانہ میں موجود ہے وہ گھر والد صاحب نے اپنی زندگی میں آدھا حصہ ہماری ایک بہن بنام زیبا رانی اور باقی حصہ ہماری والدہ بنام رفیق بیگم کے نام کردیا تھا بعد از والد والدہ کے انتقال کے بعد ،والدہ کی میراث ہم پانچ بہن بھائیوں کے نام سٹی سروے ریکارڈ میں تبدیل ہوچکا ہے اب یہ جگہ جو کہ 5 بھائیوں اور 7 بہنوں کے نام تھی ان میں سے 3 بھائی اور ایک بہن انتقال کرگئے ہیں ،یہ یاد رہے کہ والدہ کے انتقال کے بعد یہ جگہ مندرجہ بالا تمام وارثین کے نام ٹرانسفر ہوچکی ہے اور ان بھائیوں کے انتقال کے بعد ان کے بچوں کے نام ریکارڈ پر موجود ہیں اب یہ جگہ فروخت کردی گی ہے لہذا معلوم یہ کرنا ہے کہ اس جگہ پر آنے والا خرچہ رجسٹری کاغذات کی بنوائی ،آفس کا خرچہ ،لاڑکانہ آنے جانے کا خرچہ کس طرح تقسیم ہوگا جبکہ آدھا حصہ بہن اور بقیہ آدھا حصہ تمام وارثین کو جاتا ہے اس میں وہ بہن بھی شامل ہے جس کا آدھا حصہ اس کے نام ہے یعنی زیبا رانی کا آدھا حصہ اور باقی آدھا حصہ تمام وارثین جنکے نام یہ ہیں:
1۔محمد ایوب 2۔محمد سرتاج(مرحوم)3۔خالد عبدالجبار(مرحوم)،4۔ظہیر الدین بابر،5۔مقصود گڈو بھائی۔
1۔نجمہ،2۔رئیسہ،3۔سلطانہ،4۔زیبا رانی،5۔ممتاز،6۔سلمیٰ،7۔نفیسہ (مرحومہ)
وضاحت :بہن بھائیوں کا انتقال والد اور والدہ کے انتقال کے بعد ہوا۔اور والد صاحب اپنی وفات تک اسی مذکورہ مکان میں رہائش پذیر تھے جس کا آدھا حصہ انہوں نے اپنی بیٹی زیبا رانی اور آدھا حصہ اپنی اہلیہ کو ہدیہ کیا تھا۔
جواب
تفصیلات دیکھیں
پرنٹ شدہ تصویر موبائل کے پیچھے لگانا
سوال
پرنٹ شدہ تصویر موبائل کے پیچھے لگانا جائز ہے یا نہیں ؟اس کی کمائی کا کیا حکم ہے؟
جواب
تفصیلات دیکھیں
مردوں کے لئے پینٹ شرٹ پہننے کا کیا حکم ہے
